افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن، یوناما، نے کہا ہے کہ یکم اکتوبر 2025 سے 30 جون 2026 تک پاک افغان سرحدی جھڑپوں اور فضائی کارروائیوں کے نتیجے میں افغانستان کے اندر 499 شہری ہلاک اور 1,216 زخمی ہوئے۔ یہ اعداد یوناما کی انسانی حقوق کی نگرانی اور تصدیقی عمل سے حاصل کیے گئے ہیں۔

یوناما کا مینڈیٹ افغانستان میں ہونے والے واقعات تک محدود ہے، اس لیے رپورٹ میں پاکستان کے اندر ہونے والی ممکنہ شہری ہلاکتیں شامل نہیں۔ اس حد کو سمجھے بغیر دونوں ملکوں کے مجموعی نقصان کا تقابل درست نہیں ہو گا۔ مشن کا کہنا ہے کہ وہ متاثرین، عینی شاہدین، طبی عملے، مقامی حکام اور موقع پر موجود دیگر ذرائع سے معلومات ملا کر واقعات کی جانچ کرتا ہے۔

جون کے آخر میں مشرقی افغانستان کے پکتیا، پکتیکا اور کنڑ صوبوں میں حملوں کے بعد یوناما نے کم از کم 28 شہری ہلاکتوں اور 49 زخمیوں کی ابتدائی تصدیق کی تھی۔ بعد کی تفصیلی رپورٹ میں بعض مقامات پر امداد کے لیے پہنچنے والے افراد کے بھی متاثر ہونے کا ذکر ہے، جس پر مشن نے شہریوں اور ابتدائی امدادی کارکنوں کے تحفظ کی یاد دہانی کرائی۔

پاکستان کی وزارتِ خارجہ اور بعد میں فوجی ترجمان نے رپورٹ کے نتائج کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کارروائیاں صرف تحریک طالبان پاکستان سے منسلک ٹھکانوں، پناہ گاہوں اور معاون ڈھانچے کے خلاف تھیں۔ پاکستانی حکام کا مؤقف ہے کہ افغانستان میں مسلح گروہوں کو کام کرنے کی جگہ ملتی ہے؛ کابل کی طالبان حکومت اس الزام سے انکار کرتی ہے۔

یہ دونوں مؤقف ایک اہم تنازع ظاہر کرتے ہیں: اقوام متحدہ شہری متاثرین کے تصدیق شدہ ریکارڈ پر زور دیتی ہے، جبکہ پاکستان اہداف کو عسکری قرار دیتا ہے۔ آزادانہ رسائی محدود ہونے اور سرحدی علاقوں میں مسلسل کشیدگی کے باعث ہر واقعے کی مکمل تصویر فوری طور پر دستیاب نہیں ہوتی، اس لیے کسی ایک فریق کے دعوے کو بلا نسبت حتمی حقیقت نہیں بنایا گیا۔

یوناما نے دونوں جانب سے امتیاز، تناسب اور احتیاط کے بین الاقوامی انسانی اصولوں پر عمل اور شہری نقصان روکنے کے عملی طریقۂ کار اپنانے کی اپیل کی ہے۔ آئندہ پیش رفت کا انحصار مزید تصدیقی رپورٹس، فریقین کے تحریری جوابات اور جنگ بندی یا سفارتی رابطوں کے نتائج پر ہو گا۔