پاکستان نے جنیوا میں اقوام متحدہ کی کانفرنس برائے تخفیف اسلحہ کی صدارت سنبھال لی ہے۔ پاکستان کے مستقل نمائندے سفیر طاہر حسین اندرابی 2026 کے اجلاس کی آخری صدارتی مدت کی نگرانی کریں گے۔ اس مرحلے میں کانفرنس کے سال بھر کے کام کو سمیٹنا، سالانہ رپورٹ پر رکن ممالک کے درمیان مذاکرات آگے بڑھانا اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی فرسٹ کمیٹی کے لیے متعلقہ قرارداد کی تیاری اہم ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ پاکستان نے صدارت سنبھالتے ہی سابق صدور، علاقائی گروپوں اور دوسرے اراکین سے مشاورت کا عمل شروع کیا ہے۔

کانفرنس برائے تخفیف اسلحہ 65 رکن ممالک پر مشتمل واحد کثیر فریقی مذاکراتی فورم ہے جسے اسلحہ کنٹرول اور تخفیف اسلحہ سے متعلق عالمی معاہدوں پر گفتگو کے لیے قائم کیا گیا۔ اس میں تمام تسلیم شدہ جوہری ہتھیار رکھنے والی ریاستیں بھی شامل ہیں، اس لیے یہاں اتفاق رائے پیدا کرنا سفارتی طور پر مشکل مگر اہم سمجھا جاتا ہے۔ کانفرنس کے ایجنڈے میں جوہری اسلحے کی دوڑ روکنے، جوہری جنگ کے خطرے میں کمی اور بیرونی خلا کو ہتھیاروں کی دوڑ سے محفوظ رکھنے جیسے موضوعات شامل رہتے ہیں۔

اس فورم کے تاریخی ریکارڈ میں حیاتیاتی ہتھیاروں کے کنونشن، کیمیائی ہتھیاروں کے کنونشن اور جامع جوہری تجربہ پابندی معاہدے سے متعلق مذاکرات شامل ہیں۔ یہ پس منظر کانفرنس کی ادارہ جاتی اہمیت واضح کرتا ہے، اگرچہ حالیہ برسوں میں بڑے نئے معاہدے پر اتفاق مشکل رہا ہے۔ صدارت کا منصب کسی ملک کو یک طرفہ فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں دیتا؛ اس کا بنیادی کردار اجلاس چلانا، مختلف موقف رکھنے والے اراکین کے درمیان رابطہ بڑھانا، متن پر مشاورت منظم کرنا اور قابل قبول اتفاق رائے کی راہ تلاش کرنا ہوتا ہے۔

پاکستان کی موجودہ صدارتی مدت اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ 2026 کے سالانہ اجلاس کا اختتامی مرحلہ ہے۔ سالانہ رپورٹ میں کانفرنس کی سرگرمیوں، مباحث اور زیر التوا معاملات کا متفقہ خلاصہ تیار کیا جاتا ہے۔ اگر رپورٹ یا قرارداد کے الفاظ پر اختلاف ہو تو صدر کو سفارتی مشاورت کے ذریعے ایسا متن تلاش کرنا پڑتا ہے جسے تمام اراکین قبول کر سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ سابق صدور اور علاقائی گروپوں سے ابتدائی رابطے محض رسمی سرگرمی نہیں بلکہ اختتامی مذاکرات کی تیاری ہیں۔

تخفیف اسلحہ کے موضوعات میں قومی سلامتی، بین الاقوامی قانون، تکنیکی صلاحیت اور ریاستوں کے باہمی اعتماد کے سوالات ایک ساتھ شامل ہوتے ہیں۔ مختلف ممالک خطرات اور دفاعی ضروریات کو الگ زاویوں سے دیکھتے ہیں، اس لیے پیش رفت عموماً مرحلہ وار اعتماد سازی، قابل تصدیق وعدوں اور واضح قانونی زبان سے جڑی ہوتی ہے۔ پاکستان کی صدارت کے دوران کامیابی کا عملی معیار یہ ہو گا کہ اجلاس منظم انداز میں مکمل ہوں، سالانہ رپورٹ پر بامعنی مشاورت آگے بڑھے اور جنرل اسمبلی کے لیے قرارداد کے متن پر زیادہ سے زیادہ اتفاق پیدا ہو۔

یہ ذمہ داری پاکستان کو عالمی تخفیف اسلحہ مباحث کے انتظام میں نمایاں سفارتی کردار دیتی ہے، لیکن حتمی نتائج تمام رکن ممالک کے مشترکہ فیصلے سے ہی نکلیں گے۔ آئندہ اجلاسوں میں یہ واضح ہو گا کہ پاکستان کی قیادت میں مختلف علاقائی اور سلامتی موقف رکھنے والے ممالک سالانہ دستاویزات اور مستقبل کے کام کے پروگرام پر کس حد تک مشترک بنیاد بنا پاتے ہیں۔