اقوام متحدہ نے امریکا اور ایران پر زور دیا ہے کہ وہ جوہری پروگرام سے متعلق تنازع کے حل کے لیے تعمیری اور نیک نیتی پر مبنی مذاکرات دوبارہ شروع کریں۔ سلامتی کونسل کے 10192ویں اجلاس میں سیاسی و قیام امن امور کی انڈر سیکریٹری جنرل روزمیری ڈی کارلو نے کہا کہ اختلافات کے باوجود تمام فریق سفارتی حل کی ضرورت تسلیم کرتے ہیں اور ایک جامع، پائیدار اور پرامن سمجھوتے کے لیے بات چیت کا راستہ برقرار رہنا چاہیے۔

ڈی کارلو نے کونسل کو بتایا کہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کو زمینی سطح پر عدم پھیلاؤ معاہدے کے تحت نگرانی کی وہ سرگرمیاں انجام دینے کا موقع نہیں ملا جو ایرانی جوہری مواد اور تنصیبات کی تصدیق کے لیے ضروری ہیں۔ ان کے مطابق حملوں اور رسائی میں رکاوٹ کے بعد ایجنسی کے علم اور نگرانی کے تسلسل پر اثر پڑا ہے۔ اس تکنیکی خلا کا مطلب یہ ہے کہ آئندہ کسی بھی سفارتی انتظام میں قابل اعتماد تصدیق اور آئی اے ای اے کی عملی رسائی مرکزی حیثیت رکھے گی۔

اقوام متحدہ کی بریفنگ میں 17 جون کے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کا ذکر بھی ہوا۔ ڈی کارلو کے مطابق اس دستاویز میں افزودہ یورینیم کے ذخیرے کے تصفیے، آئی اے ای اے کی نگرانی میں موقع پر افزودگی کی سطح کم کرنے اور افزودگی سمیت دیگر معاملات پر مزید گفتگو کے نکات شامل ہیں۔ انہوں نے اسے حتمی سمجھوتہ نہیں بلکہ آئندہ مذاکرات کے لیے ایک اہم فریم ورک قرار دیا۔

اجلاس میں سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 اور 2015 کے مشترکہ جامع لائحہ عمل کی قانونی و سیاسی حیثیت پر فریقوں نے مختلف موقف پیش کیے۔ بعض ارکان نے سابق پابندیوں اور ان کے نفاذ کو قانونی قرار دیا، جبکہ ایران اور اس کے حامیوں نے ان اقدامات کی مخالفت کی۔ اردو ہیڈ لائنز ڈیسک ان باہمی الزامات کو ثابت شدہ حقائق کے طور پر نہیں پیش کررہا؛ یہ اجلاس میں متعلقہ وفود کی منسوب پوزیشنیں ہیں۔

کونسل نے اجلاس کے ایجنڈے کو 11 ووٹوں سے منظور کیا، دو ارکان نے مخالفت اور دو نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔ رائے شماری اختلاف کی شدت کو ظاہر کرتی ہے، مگر اقوام متحدہ کی مرکزی اپیل یہ رہی کہ فوجی دباؤ یا یک طرفہ اقدامات کے بجائے مذاکرات، تصدیق اور مرحلہ وار اعتماد سازی کو ترجیح دی جائے۔ سیکریٹری جنرل نے فریقوں سے تعمیری شمولیت کا مطالبہ کیا اور اقوام متحدہ کی معاونت کی پیشکش دہرائی۔

کسی نئی سفارتی پیش رفت کی کامیابی کے لیے صرف سیاسی اعلان کافی نہیں ہوگا۔ افزودہ مواد کی قابل تصدیق نگرانی، تنصیبات تک رسائی، پابندیوں کے بارے میں واضح ترتیب، علاقائی سلامتی اور فریقوں کے وعدوں کے نفاذ کے طریقہ کار پر تحریری اتفاق ضروری ہوگا۔ یہ خبر سرکاری اقوام متحدہ transcript اور ادارے کی موجودہ بریفنگ پر مبنی ہے؛ کسی فریق کے غیر ثابت شدہ الزام کو آزادانہ طور پر درست قرار نہیں دیا گیا۔