پاکستان سمیت 12 مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے شام کے شمال مغربی علاقے میں ابو الضہور فوجی اڈے کو نشانہ بنانے والے اسرائیلی فضائی حملوں کی مشترکہ مذمت کی ہے۔ پاکستان کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے 21 اگست کو جاری اصل بیان کے مطابق ترکیہ، الجزائر، انڈونیشیا، اردن، لبنان، ملائیشیا، موریطانیہ، پاکستان، فلسطین، قطر، سعودی عرب اور صومالیہ اس مشترکہ مؤقف میں شامل ہیں۔

بیان میں حملوں کو شام کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سیاسی وحدت کی کھلی خلاف ورزی اور خطرناک کشیدگی قرار دیا گیا۔ وزرائے خارجہ نے کہا کہ شام کے علاقے اور بنیادی ڈھانچے کو مسلسل نشانہ بنانا وہاں سلامتی کی بحالی، قومی اداروں کی تعمیر نو اور طویل تنازع کے انسانی اثرات سے نمٹنے کی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ یہ تمام نکات مشترکہ بیان کا مؤقف ہیں؛ خبر انہیں متعلقہ حکومتوں سے منسوب کررہی ہے۔

مشترکہ اعلامیے میں عالمی برادری سے واضح اور اصولی موقف اختیار کرنے اور بین الاقوامی قانون و اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق عملی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ ممالک نے 1974 کے فوجی علیحدگی کے معاہدے کے مکمل احترام، مزید کشیدگی روکنے اور شام کی خودمختاری و آزادی کے تحفظ پر زور دیا۔ بیان میں اسرائیلی افواج کے مقبوضہ علاقوں سے انخلا کا مطالبہ بھی شامل ہے۔

اعلامیہ کسی نئی فوجی کارروائی یا مشترکہ پابندی کا اعلان نہیں کرتا۔ اس کی نوعیت سفارتی مذمت اور عالمی اداروں سے اقدام کی اپیل ہے۔ اگلا عملی مرحلہ اقوام متحدہ کے متعلقہ فورمز، دوطرفہ سفارتی رابطوں یا کسی باضابطہ قرارداد کی صورت میں سامنے آسکتا ہے۔ اس وقت کسی ایسی بعد کی کارروائی کو طے شدہ قرار دینا درست نہیں جس کا اعلان متن میں نہیں ہوا۔

شام کئی برس کے تنازع کے بعد ادارہ جاتی بحالی اور انسانی ضروریات کے بڑے چیلنجوں سے دوچار ہے، اس لیے نئی سرحدی یا فضائی کشیدگی کے علاقائی اثرات کا خدشہ بیان میں نمایاں کیا گیا۔ پاکستان کی شرکت اس کے اس سرکاری مؤقف کی توسیع ہے جس میں ریاستوں کی علاقائی سالمیت اور تنازعات کے سفارتی حل پر زور دیا جاتا ہے۔ اردو ہیڈلائنز نے وزارتِ خارجہ کا اصل متن اور ایکسپریس کی رپورٹ دونوں براہِ راست جانچے ہیں۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک