کراچی: بینک الفلاح نے افغانستان میں تقریباً دو دہائیوں سے جاری اپنے بینکاری آپریشن کا خاتمہ کر دیا ہے۔ بینک نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو دیے گئے نوٹس میں بتایا کہ افغانستان میں موجود اثاثوں کی فروخت اور آپریشن کی منتقلی کا لین دین 5 نومبر کو مکمل ہو گیا، جس کے بعد ادارے نے وہاں بینکاری سرگرمیاں بند کر دی ہیں۔
بینک کے مطابق یہ منتقلی حتمی لین دین دستاویزات پر دستخط، اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور دا افغانستان بینک کی منظوری اور دیگر پیشگی شرائط پوری ہونے کے بعد مکمل ہوئی۔ دونوں ممالک کے ریگولیٹرز نے بینک الفلاح کو افغانستان میں اپنے آپریشن غزنفر بینک کو فروخت اور منتقل کرنے کی اجازت دی تھی۔
لین دین مکمل ہونے کے بعد بینک الفلاح نے افغانستان میں بینکاری خدمات کی فراہمی روک دی ہے اور اب قابل اطلاق ضابطہ جاتی تقاضوں کے مطابق اپنی افغان شاخوں کی بندش کا عمل مکمل کرے گا۔ بینک نے افغانستان میں 2005 میں کابل سے کام شروع کیا تھا اور روایتی اور اسلامی دونوں نوعیت کی بینکاری خدمات فراہم کرتا رہا۔
افغانستان سے انخلا بینک کے علاقائی آپریشنز میں ایک نمایاں تبدیلی ہے کیونکہ ادارہ طویل عرصے سے وہاں موجود پاکستانی بینکاری اداروں میں شامل تھا۔ منتقلی کے مالی حجم کی تفصیل دستیاب رپورٹ میں بیان نہیں کی گئی، اس لیے اس لین دین کے منافع یا نقصان کے بارے میں کوئی حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔
ریگولیٹری منظوری کی موجودگی اس لیے اہم ہے کہ سرحد پار بینکاری اثاثوں کی منتقلی میں دونوں متعلقہ مالیاتی نگران اداروں کی شرائط پوری کرنا ضروری ہوتا ہے۔ بینک الفلاح کے نوٹس کے مطابق مطلوبہ منظوریوں اور شرائط کی تکمیل کے بعد ہی آپریشن غزنفر بینک کو منتقل کیا گیا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت، مالیاتی روابط اور سرحدی سرگرمیاں گزشتہ برسوں میں سیاسی اور سکیورٹی حالات سے متاثر ہوتی رہی ہیں۔ تاہم بینک کی جانب سے جاری اطلاع میں انخلا کی وجہ کے طور پر کسی مخصوص سیاسی یا سکیورٹی واقعے کو بیان نہیں کیا گیا، اس لیے اسے اسی حد تک ایک مکمل شدہ کاروباری اور ضابطہ جاتی لین دین کے طور پر رپورٹ کیا جا رہا ہے۔
