اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے ملک میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ اور نقد لین دین پر انحصار کم کرنے کے لیے قومی سطح کے روڈمیپ پر عملدرآمد تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ حکومت کا ہدف سرکاری ادائیگیوں، کاروباری لین دین اور عام صارفین کے روزمرہ مالی معاملات میں محفوظ اور قابلِ رسائی ڈیجیٹل ذرائع کا استعمال بڑھانا ہے۔
وزیراعظم کی زیر صدارت متعلقہ اجلاس میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے موجودہ نظام، مرچنٹس کی شمولیت، سرکاری وصولیوں اور ادائیگیوں کی ڈیجیٹل منتقلی اور عوام کے لیے سہولت بڑھانے کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ حکام نے بتایا کہ بینکنگ ایپس، فوری ادائیگی کے نظام اور کیو آر کوڈ پر مبنی ادائیگیوں جیسے ذرائع کو وسیع کرنے سے نقدی کے استعمال میں کمی اور مالی لین دین کی دستاویزی شکل میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
وزیراعظم نے متعلقہ وزارتوں، ریگولیٹرز اور مالیاتی اداروں کے درمیان مؤثر رابطے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی کا نظام صرف بڑے شہروں یا بڑے کاروبار تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ چھوٹے دکانداروں، خدمات فراہم کرنے والوں اور کم بینکاری سہولت والے علاقوں میں بھی آسان ادائیگی ذرائع کی دستیابی کو پالیسی کا حصہ بنانے کی ہدایت کی گئی۔
حکومت کے لیے ڈیجیٹل ادائیگیوں کا فروغ ٹیکس نیٹ، مالی شمولیت اور سرکاری خدمات کی شفافیت سے بھی جڑا ہوا ہے۔ زیادہ لین دین باقاعدہ مالیاتی نظام کے ذریعے ہونے سے ادائیگیوں کا ریکارڈ بہتر ہو سکتا ہے، جبکہ صارفین کو نقد رقم رکھنے اور منتقل کرنے کی ضرورت کم پڑتی ہے۔ تاہم اس تبدیلی کے ساتھ سائبر سکیورٹی، صارف ڈیٹا کے تحفظ، فراڈ سے بچاؤ اور ڈیجیٹل خواندگی جیسے مسائل بھی اہم ہیں۔
اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ ڈیجیٹل نظام اپناتے وقت صارف کے لیے لاگت اور پیچیدگی کم رکھی جائے۔ چھوٹے کاروبار اگر ادائیگی قبول کرنے کے لیے مہنگے آلات یا پیچیدہ طریقہ کار کے محتاج ہوں تو ان کی شمولیت سست ہو سکتی ہے، اس لیے کم لاگت والے اور باہمی طور پر قابلِ استعمال نظام اہم سمجھے جاتے ہیں۔
وزیراعظم نے پیش رفت کی باقاعدہ نگرانی اور مقررہ اہداف کے مطابق عملی اقدامات مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ قومی روڈمیپ کا اصل امتحان اس بات سے ہوگا کہ سرکاری ادارے اور نجی مالیاتی شعبہ کتنی تیزی سے قابلِ اعتماد ڈیجیٹل ادائیگی انفراسٹرکچر کو عام صارف اور چھوٹے کاروبار تک پہنچاتے ہیں، اور ساتھ ہی صارفین کے تحفظ اور نظام کی سلامتی کو یقینی رکھتے ہیں۔
