لاہور: سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ نے مالی سال 2025-26 کے لیے 14 ارب 80 کروڑ 90 لاکھ روپے کا بعد از ٹیکس منافع رپورٹ کیا ہے۔ کمپنی کے مالی نتائج کے مطابق فی حصص آمدن 23 روپے 35 پیسے رہی، جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں معمولی بہتری ظاہر کرتی ہے۔

مالی سال 2024-25 میں کمپنی کا بعد از ٹیکس منافع 14 ارب 59 کروڑ 20 لاکھ روپے تھا جبکہ فی حصص آمدن 23 روپے ایک پیسہ ریکارڈ کی گئی تھی۔ اس طرح تازہ مالی سال میں بعد از ٹیکس منافع میں اضافہ محدود رہا، تاہم قبل از ٹیکس منافع میں نمایاں چھلانگ سامنے آئی۔

کمپنی نے مالی سال 2025-26 میں 34 ارب 65 کروڑ 60 لاکھ روپے کا قبل از ٹیکس منافع حاصل کیا، جسے کمپنی کا اب تک کا سب سے زیادہ قبل از ٹیکس منافع قرار دیا گیا ہے۔ ایک سال قبل یہ رقم 24 ارب 44 کروڑ 60 لاکھ روپے تھی۔ اس حساب سے قبل از ٹیکس منافع میں تقریباً 42 فیصد اضافہ ہوا۔

مالی نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹیکس سے پہلے کمپنی کی آمدن میں مضبوط اضافہ ہوا، لیکن ٹیکس کے بعد منافع میں اسی تناسب سے اضافہ نہیں ہوا۔ کسی کمپنی کی مالی کارکردگی کا جائزہ لیتے وقت قبل از ٹیکس اور بعد از ٹیکس دونوں اعداد اہم ہوتے ہیں کیونکہ ٹیکس اخراجات، ضابطہ جاتی ایڈجسٹمنٹس اور دیگر مالی عوامل حتمی منافع پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

سوئی ناردرن پاکستان میں قدرتی گیس کی ترسیل اور تقسیم کے بڑے اداروں میں شامل ہے اور پنجاب، خیبر پختونخوا اور دیگر متعلقہ علاقوں میں صارفین کو خدمات فراہم کرتی ہے۔ اس شعبے میں مالی کارکردگی گیس کی قیمتوں، ریگولیٹری فیصلوں، گردشی قرض، لائن لاسز اور وصولیوں سمیت متعدد عوامل سے متاثر ہوتی ہے۔

تازہ نتائج میں ریکارڈ قبل از ٹیکس منافع کمپنی کے مالی سال کی نمایاں پیش رفت ہے، تاہم بعد از ٹیکس منافع کا گزشتہ سال کے قریب رہنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حتمی مالی نتیجے پر ٹیکس اور متعلقہ اخراجات کا بڑا اثر رہا۔ کمپنی کے آئندہ نتائج میں آپریشنل کارکردگی، گیس کی فراہمی اور ریگولیٹری فریم ورک اہم عوامل رہیں گے۔