لندن: بینک آف انگلینڈ نے بنیادی شرح سود میں 0.25 فیصد پوائنٹ اضافہ کرکے اسے 4 فیصد کردیا ہے۔ یہ اگست 2023 کے بعد برطانوی مرکزی بینک کی جانب سے شرح سود میں پہلا اضافہ ہے اور فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا جب مشرق وسطیٰ کی کشیدگی اور توانائی کی بلند قیمتوں نے برطانیہ میں مہنگائی کے دباؤ کو دوبارہ بڑھایا ہے۔
مرکزی بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے شرح سود بڑھانے کے حق میں فیصلہ کیا۔ بینک نے اپنی تازہ پیش گوئی میں کہا کہ صارف قیمتوں کی مہنگائی قریب مدت میں بلند رہنے کا امکان ہے اور توانائی کے اخراجات اس رجحان کا اہم سبب ہیں۔ شرح سود بڑھانے کا مقصد معیشت میں طلب اور قیمتوں کے دباؤ کو محدود کرکے مہنگائی کو بینک کے 2 فیصد ہدف کی جانب واپس لانا ہے۔
گورنر اینڈریو بیلی نے کہا کہ پالیسی سازوں کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ حالیہ قیمتوں کے جھٹکے طویل مدتی مہنگائی میں تبدیل نہ ہوں۔ تاہم مرکزی بینک کو ایک مشکل توازن کا سامنا ہے کیونکہ بلند شرح سود قرض لینے کی لاگت بڑھاتی ہے اور پہلے سے کمزور معاشی سرگرمی کو مزید سست کرسکتی ہے۔ رہن، کاروباری قرضوں اور صارفین کی مالی ضروریات پر بھی اس فیصلے کے اثرات پڑ سکتے ہیں۔
برطانیہ میں توانائی کی قیمتوں میں اضافہ عالمی تیل اور گیس منڈی میں غیر یقینی صورتحال سے جڑا ہوا ہے۔ مشرق وسطیٰ کی کشیدگی نے خام تیل اور گیس کی رسد کے بارے میں خدشات بڑھائے، جس کے نتیجے میں ایندھن اور بجلی کے اخراجات پر دباؤ پیدا ہوا۔ مرکزی بینک کے لیے اہم سوال یہ ہے کہ آیا یہ بیرونی قیمتوں کا جھٹکا اجرتوں، خدمات اور دوسری گھریلو قیمتوں میں مستقل اضافے کا سبب بنتا ہے یا وقت کے ساتھ محدود ہوجاتا ہے۔
بینک آف انگلینڈ نے واضح کیا کہ آئندہ فیصلے آنے والے معاشی اعداد و شمار پر منحصر ہوں گے۔ شرح سود کا راستہ پہلے سے طے شدہ نہیں اور پالیسی ساز مہنگائی، اجرتوں، روزگار اور معاشی نمو کے نئے اعداد کا جائزہ لے کر اگلی میٹنگوں میں فیصلہ کریں گے۔ موجودہ اضافہ اس بات کا اشارہ ہے کہ مرکزی بینک نے فی الحال مہنگائی کے دوبارہ بڑھنے کے خطرے کو معاشی سست روی کے مقابلے میں زیادہ فوری مسئلہ سمجھا ہے۔
