کراچی: سندھ حکومت نے کراچی میں پاکستان کے پہلے ماربل سٹی صنعتی پارک کے قیام کے منصوبے کی پری لانچ تقریب میں سرمایہ کاروں کے لیے ابتدائی تفصیلات پیش کی ہیں۔ صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کے مطابق منصوبے کا مقصد ماربل اور گرینائٹ کی مقامی پروسیسنگ، صنعتی سرگرمیوں، سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع میں اضافہ کرنا ہے تاکہ خام پتھر برآمد کرنے کے بجائے زیادہ قدر والی تیار مصنوعات بنائی جا سکیں۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی برائے سرمایہ کاری و پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ قاسم نوید قمر نے بتایا کہ ماربل سٹی ناردرن بائی پاس کے ساتھ 300 ایکڑ سے زائد رقبے پر قائم کیا جا رہا ہے اور اس کی تخمینی لاگت تقریباً 250 ملین ڈالر ہے۔ منصوبہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ فریم ورک کے تحت تیار کیا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق سرمایہ کاروں اور صنعت کاروں کی رجسٹریشن کا عمل اگلے ماہ شروع کرنے کا ارادہ ہے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ ماربل سٹی میں زمین کی اوسط قیمت تقریباً 2 کروڑ 50 لاکھ روپے فی ایکڑ مقرر کی جا رہی ہے اور سرمایہ کاروں کو پوری رقم ایک ساتھ ادا کرنے کے بجائے اقساط کی سہولت بھی دی جائے گی۔ ان کے مطابق منصوبے کا باقاعدہ افتتاح پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کریں گے، جبکہ موجودہ تقریب کا مقصد صنعت کاروں کو منصوبے اور دستیاب مواقع سے آگاہ کرنا تھا۔
صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ سندھ اور ملک کے دیگر علاقوں میں موجود ماربل اور گرینائٹ کے ذخائر کو جدید صنعتی طریقوں سے پروسیس کرکے بین الاقوامی منڈی کے لیے اعلیٰ معیار کی مصنوعات تیار کی جا سکتی ہیں۔ اس حکمت عملی کا بنیادی تصور یہ ہے کہ قدرتی وسائل کی خام شکل میں فروخت کے بجائے مقامی سطح پر کٹنگ، پالشنگ اور دیگر ویلیو ایڈیشن سے برآمدی آمدن اور روزگار میں اضافہ کیا جائے۔
قاسم نوید قمر کے مطابق حکومت منصوبے میں صنعت کاروں کو نسبتاً کم لاگت پر سہولتیں دینے، مشینری کرائے پر دستیاب کرنے اور جدید آلات تک رسائی فراہم کرنے کے انتظامات پر بھی کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت اپنے بعض صنعتی منصوبوں، خصوصاً دھابیجی اور خیرپور، کے لیے بجلی تقریباً 20 روپے فی یونٹ فراہم کرنے کی تجویز پر کام کر رہی ہے اور ماربل سٹی کے لیے بھی موجودہ شہری نرخوں سے کم لاگت کی بجلی کے امکانات زیر غور ہیں۔ یہ تجاویز ابھی حکومتی عمل درآمد اور متعلقہ انتظامی و ریگولیٹری فیصلوں سے مشروط ہیں۔
منصوبے کی معاشی کامیابی کا انحصار بنیادی ڈھانچے، بجلی کی قابل اعتماد فراہمی، زمین کی الاٹمنٹ، سرمایہ کاروں کی حقیقی دلچسپی اور برآمدی منڈیوں تک رسائی پر ہوگا۔ فی الحال حکام نے منصوبے کی پری لانچ تفصیلات اور مجوزہ سہولتوں کا اعلان کیا ہے؛ مکمل صنعتی سرگرمی، سرمایہ کاری کی حتمی مقدار اور روزگار کے نتائج منصوبے کے عملی نفاذ کے بعد ہی واضح ہوں گے۔
