کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس موجود زرمبادلہ ذخائر میں 30 اکتوبر 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران 3 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا اور یہ 21.56 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔ ایکسپریس ٹریبیون نے مرکزی بینک کے جاری کردہ اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا کہ اسی تاریخ پر ملک کے مجموعی مائع زرمبادلہ ذخائر 26.86 ارب ڈالر تھے۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس خالص زرمبادلہ ذخائر تقریباً 5.30 ارب ڈالر رہے۔ اس سے ایک ہفتہ قبل، 23 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں اسٹیٹ بینک کے ذخائر 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر بڑھ کر 21.52 ارب ڈالر ہوئے تھے۔ تازہ ہفتہ وار اضافہ اس سلسلے کو آگے بڑھاتا ہے، اگرچہ ذخائر کی سطح میں معمولی ہفتہ وار تبدیلیاں قرضوں کی وصولی، بیرونی ادائیگیوں اور سرکاری زرمبادلہ کے بہاؤ سے متاثر ہو سکتی ہیں۔
مرکزی بینک کے ذخائر کسی معیشت کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کا اہم اشاریہ ہوتے ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ سطح درآمدی ادائیگیوں، بیرونی قرضوں کی خدمت اور کرنسی مارکیٹ میں اعتماد کے حوالے سے خاص اہمیت رکھتی ہے۔ تاہم صرف مجموعی ڈالر رقم سے مکمل بیرونی پوزیشن کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا، کیونکہ واجبات، آئندہ قرض ادائیگیاں، درآمدی ضرورت اور متوقع بیرونی رقوم بھی اہم عوامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پاکستانی روپیہ بھی امریکی ڈالر کے مقابلے میں معمولی مضبوط ہوا اور انٹربینک مارکیٹ میں 276.67 روپے فی ڈالر پر بند ہوا، جو گزشتہ روز 276.70 روپے تھا۔ یہ تبدیلی محدود تھی اور اسے کسی طویل مدتی رجحان کا قطعی ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا، تاہم ذخائر میں بتدریج اضافے کے ساتھ کرنسی مارکیٹ کے استحکام پر نظر رکھی جا رہی ہے۔
اسی کاروباری رپورٹ میں مقامی سونے کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کا بھی ذکر کیا گیا۔ آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز صرافہ ایسوسی ایشن کے نرخوں کے مطابق فی تولہ سونا 9,600 روپے بڑھ کر 435,636 روپے تک پہنچا، جبکہ 10 گرام سونے کی قیمت 8,230 روپے اضافے سے 373,487 روپے ہوئی۔ بین الاقوامی منڈی میں بھی سونے کی قیمت میں اضافہ رپورٹ ہوا، جسے کمزور امریکی ڈالر اور بانڈ ییلڈ میں کمی جیسے عوامل سے جوڑا گیا۔
زرمبادلہ ذخائر کے تازہ اعداد و شمار پاکستان کی بیرونی مالی پوزیشن میں ہفتہ وار بہتری دکھاتے ہیں، لیکن آئندہ سمت کا انحصار برآمدات، ترسیلات زر، درآمدی بل، قرضوں کی آمد و ادائیگی اور عالمی مالی حالات پر ہوگا۔ اسٹیٹ بینک کے ہفتہ وار اعداد و شمار انہی تبدیلیوں کی مسلسل نگرانی کے لیے بنیادی سرکاری پیمانہ ہیں۔
