خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں پولیس امن کمیٹی نے سات پولیس اہلکاروں کے تبادلے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ٹریفک ڈیوٹی کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق کمیٹی کے صدر حضرت اللہ نے دعویٰ کیا کہ منتقل کیے گئے اہلکار ان کے ساتھی تھے اور یہ اقدام دہشت گردی کے خلاف مقامی سطح پر کام کرنے والے ادارے کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔ یہ دعویٰ کمیٹی کے رہنما کا موقف ہے؛ رپورٹ میں پولیس کی جانب سے تبادلوں کی وجہ یا باضابطہ جواب شامل نہیں تھا۔

احتجاج کے باعث شہر میں بعض پولیس خدمات اور ٹریفک نظم متاثر ہونے کی اطلاع دی گئی۔ مقامی امن کمیٹیاں کئی علاقوں میں پولیس اور آبادی کے درمیان رابطے، مشتبہ سرگرمیوں کی اطلاع اور سکیورٹی تعاون کا کردار ادا کرتی ہیں، لیکن ان کی قانونی حیثیت، اختیار اور پولیس انتظامیہ سے تعلق ہر مقام پر یکساں نہیں ہوتا۔ اسی لیے اہلکاروں کے معمول کے انتظامی تبادلے اور کسی کمیٹی کی عملی صلاحیت پر ان کے اثر کو الگ الگ جانچنا ضروری ہے۔

حضرت اللہ نے حکام سے تبادلے واپس لینے یا فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ کیا۔ ان کے مطابق متعلقہ اہلکار مقامی حالات اور خطرات سے واقف تھے، اس لیے انہیں ہٹانے سے امن و امان کی کوشش متاثر ہوسکتی ہے۔ تاہم اس مؤقف کی آزاد سرکاری تصدیق رپورٹ کے وقت دستیاب نہیں تھی۔ پولیس کی تعیناتی اور تبادلہ انتظامی اختیار کے تحت ہوتا ہے، اور حتمی تصویر متعلقہ ضلعی یا صوبائی پولیس حکام کی وضاحت سے واضح ہوگی۔

بنوں اور ملحقہ اضلاع طویل عرصے سے دہشت گردی اور سکیورٹی خطرات کا سامنا کرتے رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں پولیس اہلکاروں، مقامی عمائدین اور امن کمیٹیوں کے درمیان اعتماد عملی اہمیت رکھتا ہے۔ دوسری طرف ٹریفک یا شہری خدمات کا بائیکاٹ عام لوگوں کی نقل و حرکت اور ہنگامی رسائی کو متاثر کرسکتا ہے۔ تنازع حل کرنے کے لیے تبادلوں کی انتظامی وجوہات، متبادل تعیناتی اور کمیٹی کے دائرۂ کار پر واضح گفتگو ضروری ہوگی۔

فی الحال خبر کا مصدقہ دائرہ سات اہلکاروں کے تبادلے، کمیٹی کی جانب سے احتجاج اور بائیکاٹ کے اعلان اور اس کے رہنما کے بیان تک محدود ہے۔ تبادلوں کو سازش یا سکیورٹی ناکامی کہنا کسی سرکاری تحقیق کا نتیجہ نہیں۔ اگر پولیس وجوہات جاری کرتی ہے، فیصلہ واپس لیا جاتا ہے یا شہری خدمات کی بحالی ہوتی ہے تو وہ الگ اور قابل تصدیق پیش رفت ہوگی۔ — اردو ہیڈ لائنز ڈیسک