اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں آگ کے نتیجے میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت نے اسپتالوں میں آگ سے بچاؤ، فوری انخلا اور ہنگامی ردعمل کے انتظامات پر ایک بار پھر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ڈان کی 26 اگست کو شائع ہونے والی تفصیلی ٹائم لائن کے مطابق یہ کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں، بلکہ 2010 سے ملک کے مختلف شہروں میں سرکاری اور نجی طبی مراکز میں آتشزدگی کے متعدد واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔ یہ ٹائم لائن واقعات کی نوعیت اور نتائج کو یکجا کرتی ہے، تاہم ہر واقعے کی حتمی ذمہ داری متعلقہ تحقیقات اور سرکاری ریکارڈ سے ہی متعین ہوسکتی ہے۔

حالیہ برسوں میں بھی کئی اسپتال متاثر ہوئے۔ جون 2024 میں ساہیوال ٹیچنگ اسپتال میں آگ کے بعد 11 بچوں کی ہلاکت رپورٹ ہوئی تھی۔ فروری 2024 میں کراچی کے لیاقت آباد میں ایک اسپتال کی عمارت میں آگ لگنے سے عملے کے چار ارکان جان سے گئے۔ مئی 2023 میں کراچی کے ایک طبی مرکز میں آگ کے دوران ایک نومولود کی موت اور دوسرے بچے کے جھلسنے کی اطلاع سامنے آئی۔ ستمبر 2022 میں نارووال کے ایک اسپتال سے آگ کے بعد 45 مریضوں کو منتقل کرنا پڑا، جبکہ اسی مہینے کراچی کے جناح اسپتال کے آپریشن تھیٹر کے حصے کو نقصان پہنچا تھا۔

رپورٹ میں ایسے واقعات بھی شامل ہیں جن میں بروقت انخلا سے جانی نقصان نہیں ہوا۔ جنوری 2024 میں پشاور کے ایک اسپتال اور 2025 میں سندھ کے شہر سیہون میں آگ کے واقعات میں مریضوں کو نکالا گیا اور بڑی ہلاکت سے بچاؤ ممکن ہوا۔ اکتوبر 2025 میں کراچی کے ضیاالدین اسپتال میں رپورٹ ہونے والی آگ میں بھی بڑے جانی نقصان کی اطلاع نہیں دی گئی۔ ان مثالوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک ہی نوعیت کے خطرے کے نتائج عمارت کے ڈیزائن، الارم، تربیت، راستوں کی دستیابی اور عملے کے فوری ردعمل سے بہت مختلف ہوسکتے ہیں۔

ٹائم لائن میں 2010 کے بعد کے دیگر واقعات بھی درج ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ بجلی کے نظام، طبی آلات، آکسیجن والے حصوں اور حساس وارڈز میں آگ کا خطرہ مسلسل نگرانی چاہتا ہے۔ اسپتال عام عمارتوں سے مختلف ہوتے ہیں کیونکہ بہت سے مریض خود چل کر باہر نہیں نکل سکتے، نومولود اور انتہائی نگہداشت کے مریض مشینوں سے منسلک ہوتے ہیں، اور دھواں چند منٹ میں محفوظ راستے بند کرسکتا ہے۔ اسی لیے آگ بجھانے کے آلات کی موجودگی کے ساتھ ان کا قابل استعمال ہونا، عملے کی مشق اور متبادل بجلی و انخلا منصوبہ اہم ہے۔

پمز واقعے کی الگ انکوائری جاری ہے، اس لیے کسی فنی خرابی یا انتظامی ذمہ داری کو حتمی نتیجہ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ ڈان کی ٹائم لائن کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ماضی کے واقعات سے حاصل ہونے والے اسباق کو مستقل حفاظتی نظام میں بدلنا ضروری ہے۔ اسپتالوں کے فائر آڈٹ، حساس وارڈز کی جانچ، الارم و اسپرنکلر نظام، واضح انخلا راستوں اور باقاعدہ مشقوں کے نتائج شفاف انداز میں سامنے لانے سے ہی یہ جانچا جاسکے گا کہ حفاظتی تیاری کاغذی ضابطوں سے آگے عملی سطح تک پہنچی ہے یا نہیں۔ — اردو ہیڈ لائنز ڈیسک