پشاور: خیبر پختونخوا کا بنوں ڈویژن ملک میں پولیو کے خاتمے کی کوششوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے، جہاں حالیہ قومی ویکسینیشن مہم کے دوران بچوں تک رسائی صوبے اور ملک کے مجموعی تناسب سے نمایاں طور پر کم رہی۔ ڈان کی 4 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق 27 ستمبر کو ختم ہونے والی ایک ہفتے کی مہم میں مجموعی طور پر 99 فیصد ہدف حاصل کیا گیا، لیکن بنوں ڈویژن میں صرف 86 فیصد بچوں تک پولیو ویکسین پہنچ سکی۔

رپورٹ کے مطابق رواں سال اب تک ملک بھر میں رپورٹ ہونے والے پانچ پولیو کیسز میں سے چار بنوں ڈویژن سے سامنے آئے ہیں، جس سے یہ خطہ وائرس کے پھیلاؤ کے حوالے سے خاص تشویش کا مرکز بن گیا ہے۔ پولیو کے خاتمے کے لیے صرف ویکسین کی دستیابی کافی نہیں ہوتی؛ گھر گھر ٹیموں کی رسائی، والدین کی رضامندی، سکیورٹی، آبادی کی نقل و حرکت اور بار بار مہمات کی مؤثر نگرانی بھی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

ایمرجنسی آپریشن سینٹر خیبر پختونخوا کے اعداد و شمار کے مطابق بنوں میں ویکسین سے انکار کے 4,701 کیس رپورٹ ہوئے۔ یہ تعداد پشاور کے بعد دوسری بڑی تعداد تھی، جہاں 5,635 والدین یا خاندانوں نے بچوں کو ویکسین پلانے سے انکار کیا۔ بنوں میں مزید 5,873 بچے گھر گھر مہم کے دوران دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے رہ گئے، جبکہ پشاور میں ایسے بچوں کی تعداد 10,558 بتائی گئی۔

پولیو پروگرام کے لیے انکاری اور غیر دستیاب بچوں کی الگ الگ وجوہات ہوتی ہیں۔ انکار کے کیسز میں اعتماد سازی، مقامی علما، منتخب نمائندوں اور کمیونٹی رہنماؤں کی شمولیت اہم ہو سکتی ہے، جبکہ غیر دستیاب بچوں تک پہنچنے کے لیے دوبارہ دوروں، موبائل آبادی کی نقشہ بندی اور ویکسین ٹیموں کے شیڈول میں لچک کی ضرورت پڑتی ہے۔

بنوں کی صورتحال اس لیے بھی اہم ہے کہ پولیو وائرس ایک علاقے میں محدود نہیں رہتا۔ آبادی کی نقل و حرکت، بین الاضلاعی سفر اور بچوں کے غیر مکمل حفاظتی کور کے باعث وائرس دوسرے علاقوں تک پہنچ سکتا ہے۔ اسی لیے ایک ڈویژن میں کم کوریج پورے قومی خاتمہ پولیو پروگرام کی کامیابی کو متاثر کر سکتی ہے۔

حکام کے لیے اگلا اہم مرحلہ باقی رہ جانے والے بچوں تک تیزی سے پہنچنا، انکاری خاندانوں کے خدشات دور کرنا اور وائرس کی ماحولیاتی و طبی نگرانی جاری رکھنا ہے۔ 86 فیصد کوریج یہ ظاہر کرتی ہے کہ عمومی مہم کی رسائی کے باوجود بنوں میں ایک قابلِ ذکر حفاظتی خلا موجود ہے، جسے بند کیے بغیر پولیو کے خاتمے کا ہدف حاصل کرنا مشکل رہے گا۔