اسلام آباد/ڈیرہ اسماعیل خان: سکیورٹی ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران آٹھ شدت پسند مارے گئے۔ جیو نیوز نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ کارروائی مشتبہ عسکریت پسندوں کی موجودگی سے متعلق خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کی گئی۔ ذرائع نے دعویٰ کیا کہ ہلاک ہونے والوں میں تین اہم کمانڈر بھی شامل تھے۔

رپورٹ کے مطابق آپریشن کے بعد اسلحہ اور گولہ بارود کے ساتھ غیر ملکی کرنسی بھی برآمد ہوئی۔ جیو نیوز کی خبر میں شدت پسندوں کو بھارت کی پشت پناہی حاصل ہونے کا دعویٰ سکیورٹی ذرائع سے منسوب کیا گیا ہے؛ اس دعوے کی آزادانہ تصدیق خبر میں پیش نہیں کی گئی، اس لیے اسے سرکاری یا سکیورٹی موقف کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کارروائی پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ یہ آپریشن دہشت گردی کے خلاف اداروں کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے خیبر پختونخوا کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن صوبہ قرار دیتے ہوئے فورسز کی کارروائیوں کی حمایت کی۔

یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں عسکریت پسندی کے واقعات اور انسداد دہشت گردی آپریشنز میں اضافہ رپورٹ کیا جا رہا ہے۔ جیو نیوز کے مطابق اس سے ایک روز قبل جنوبی وزیرستان اور بلوچستان کے گورندر۔ماشکیل علاقے میں الگ الگ کارروائیوں کے دوران 11 شدت پسندوں کے مارے جانے کی اطلاع دی گئی تھی۔

پاکستانی حکام حالیہ مہینوں میں سرحد پار حملوں اور افغانستان میں موجود مبینہ عسکریت پسند نیٹ ورکس کے بارے میں مسلسل تحفظات ظاہر کرتے رہے ہیں۔ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے، جبکہ کابل ماضی میں کئی پاکستانی الزامات سے اختلاف کر چکا ہے۔ اس اختلاف کے باوجود دونوں ملکوں کے درمیان سکیورٹی امور پر رابطے جاری رہتے ہیں۔

ڈیرہ اسماعیل خان خیبر پختونخوا کے ان اضلاع میں شامل ہے جہاں گزشتہ چند برسوں میں عسکریت پسند حملوں اور سکیورٹی آپریشنز کے متعدد واقعات پیش آئے ہیں۔ تازہ کارروائی کے بارے میں دستیاب معلومات بنیادی طور پر سکیورٹی ذرائع اور سرکاری ردعمل پر مشتمل ہیں۔ ہلاک افراد کی شناخت، آپریشن کے درست مقام اور برآمد شدہ مواد کی مقدار کے بارے میں فوری طور پر مزید آزاد تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔