کوئٹہ/اسلام آباد: وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ صوبے کے سیاسی مسائل کا پائیدار حل سیاسی عمل، شمولیت اور مذاکرات میں ہے، تاہم ان کے بقول ایسے عناصر سے بات چیت نہیں ہو سکتی جو ہتھیار اٹھائیں یا بے گناہ شہریوں کا خون بہائیں۔ ڈان کی 4 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام ایک خصوصی لیکچر میں بلوچستان کی سیاسی، سماجی اور سکیورٹی صورتحال پر اظہار خیال کیا۔

سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت سیاسی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہے اور سیاسی اختلافات کو آئینی و جمہوری طریقے سے حل ہونا چاہیے۔ ساتھ ہی انہوں نے ریاستی رٹ اور شہریوں کے تحفظ کو غیر قابلِ سمجھوتہ قرار دیا۔ یہ مؤقف صوبائی حکومت کی پالیسی کی نمائندگی کرتا ہے اور مسلح تنازع، سیاسی شکایات اور انسانی حقوق سے متعلق مختلف گروہوں کے اپنے الگ دعوے اور بیانیے موجود ہیں۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کے حالات کو چند واقعات یا یک طرفہ بیانیے کی بنیاد پر سمجھنا درست نہیں اور صوبے کی تاریخ، جغرافیہ، سماجی ساخت، سیاسی ارتقا اور موجودہ معاشی و سکیورٹی حالات کو ایک ساتھ دیکھنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق مسائل کے دیرپا حل کے لیے اچھی حکمرانی، میرٹ، سیاسی شمولیت، نوجوانوں کے لیے مواقع، معاشی ترقی اور قانون کی عملداری بنیادی عناصر ہیں۔

انہوں نے پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی صلاحیت بڑھانے، جدید پولیسنگ، انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیوں، بہتر پراسیکیوشن اور بین الادارہ رابطے کو صوبائی سکیورٹی حکمت عملی کا حصہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مقصد ایسا ماحول بنانا ہے جس میں نوجوان تشدد کے بجائے تعلیم، روزگار اور مثبت سماجی سرگرمیوں کو ترجیح دیں۔

بلوچستان طویل عرصے سے سکیورٹی چیلنجز، سیاسی عدم اعتماد، ترقیاتی تفاوت اور مرکز و صوبہ تعلقات سے متعلق بحث کا مرکز رہا ہے۔ مختلف سیاسی اور سماجی حلقے لاپتا افراد، وسائل کی تقسیم، صوبائی خودمختاری اور سیاسی نمائندگی جیسے معاملات کو بھی بنیادی شکایات میں شمار کرتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے مذاکرات کی بات اسی وسیع پس منظر میں سامنے آئی ہے۔

سرفراز بگٹی نے زور دیا کہ امن اور ترقی ایک دوسرے سے الگ نہیں اور صوبے میں استحکام کے لیے آئینی جمہوریت، تعلیم، معاشی مواقع اور مؤثر حکمرانی کو سکیورٹی اقدامات کے ساتھ آگے بڑھانا ہوگا۔ ان کے بیان سے فوری طور پر کسی نئے مذاکراتی فریم ورک یا مخصوص فریق کے ساتھ باضابطہ مذاکرات کے آغاز کا اعلان نہیں ہوا۔