خیبر: ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ میں انٹرنیٹ خدمات کی طویل بندش نے مقامی کاروبار، تعلیم اور روزمرہ ڈیجیٹل رابطوں کو متاثر کیا ہے۔ علاقے کے تاجروں، طلبہ اور شہریوں کا کہنا ہے کہ مسلسل تعطل کے باعث آن لائن لین دین، تعلیمی سرگرمیاں، سرکاری پورٹلز تک رسائی اور رابطے کے دیگر ذرائع شدید متاثر ہورہے ہیں۔

مقامی کاروباری حلقوں کے مطابق انٹرنیٹ پر انحصار کرنے والی دکانیں، آن لائن ادائیگیاں، آرڈر بکنگ اور ترسیل سے متعلق سرگرمیاں بندش کے دوران محدود ہوجاتی ہیں۔ چھوٹے کاروباروں کے لیے مسئلہ زیادہ سنگین ہے کیونکہ ان کے پاس متبادل کنیکٹیویٹی یا مہنگے مواصلاتی ذرائع اختیار کرنے کی گنجائش کم ہوتی ہے۔ طلبہ نے بھی آن لائن کلاسز، تعلیمی مواد، درخواستوں اور امتحانی یا داخلہ پورٹلز تک رسائی میں مشکلات کی شکایت کی ہے۔

مقامی نمائندوں اور متاثرہ شہریوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ سکیورٹی ضروریات اور عوامی سہولت کے درمیان توازن قائم کرتے ہوئے انٹرنیٹ خدمات بحال کی جائیں۔ سرحدی اور سکیورٹی سے متاثرہ علاقوں میں مواصلاتی خدمات بعض اوقات انتظامی یا حفاظتی وجوہات کی بنیاد پر محدود کی جاتی ہیں، تاہم کسی مخصوص بندش کی قانونی یا سکیورٹی بنیاد متعلقہ حکام کی وضاحت سے ہی حتمی طور پر معلوم ہوسکتی ہے۔

پاکستان میں ڈیجیٹل ادائیگیوں، آن لائن تعلیم، فری لانسنگ اور ای گورننس کے بڑھتے استعمال کے باعث انٹرنیٹ اب محض رابطے کا ذریعہ نہیں بلکہ معاشی اور سماجی بنیادی ڈھانچے کا حصہ بنتا جارہا ہے۔ باڑہ جیسے علاقوں میں طویل بندش مقامی آبادی کے لیے قومی ڈیجیٹل معیشت سے جڑنے کے مواقع بھی محدود کرسکتی ہے۔ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ اگر مکمل بحالی فوری ممکن نہ ہو تو کم از کم ضروری کاروباری، تعلیمی اور سرکاری خدمات کے لیے قابل اعتماد متبادل فراہم کیا جائے۔ بندش کے دورانیے اور بحالی کے حتمی وقت سے متعلق سرکاری اعلان اس خبر کی اشاعت تک واضح نہیں تھا۔