اسلام آباد: پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کے بڑھتے استعمال کے پیش نظر چارجنگ انفراسٹرکچر کو بڑے شہروں اور اہم بین شہری شاہراہوں تک پھیلانے کی کوششیں تیز ہورہی ہیں۔ حکومتی پالیسی، بجلی کے شعبے کے ضوابط اور نجی کمپنیوں کی سرمایہ کاری کے ذریعے ایسے چارجنگ پوائنٹس کی تعداد بڑھانے پر کام کیا جارہا ہے جہاں کاریں اور دیگر برقی گاڑیاں نسبتاً تیز اور محفوظ انداز میں چارج ہوسکیں۔

الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ میں گاڑی کی قیمت کے ساتھ چارجنگ اسٹیشنوں کی دستیابی بنیادی مسئلہ سمجھی جاتی ہے۔ شہری صارفین کے لیے گھر پر چارجنگ ممکن ہوسکتی ہے، لیکن طویل سفر، اپارٹمنٹ رہائش اور تجارتی گاڑیوں کے لیے عوامی فاسٹ چارجنگ نیٹ ورک ضروری ہے۔ اسی وجہ سے موٹرویز، قومی شاہراہوں، شاپنگ مراکز، پیٹرول پمپس اور بڑے شہری مراکز کو ممکنہ مقامات کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔

پاکستان میں ای وی پالیسی کا مقصد درآمدی ایندھن پر انحصار اور شہری فضائی آلودگی کم کرنے کے ساتھ مقامی سطح پر برقی گاڑیوں اور پرزہ جات کی صنعت کو فروغ دینا بھی ہے۔ تاہم بجلی کی تقسیم کے نظام، چارجنگ کی رفتار، کنیکٹر کے معیارات، ٹیرف، زمین کی دستیابی اور صارفین کے لیے ادائیگی کے آسان نظام جیسے عملی مسائل حل کرنا ہوں گے۔ بجلی اگر زیادہ صاف ذرائع سے پیدا ہو تو الیکٹرک گاڑیوں کے ماحولیاتی فوائد بھی زیادہ ہوسکتے ہیں۔

چارجنگ نیٹ ورک کی توسیع مرحلہ وار عمل ہے اور اعلان کردہ یا مجوزہ مقامات کا عملی طور پر فعال ہونا سرمایہ کاری، گرڈ کنکشن اور متعلقہ اجازت ناموں سے مشروط ہوگا۔ صارفین کے لیے قابل اعتماد نیٹ ورک اسی وقت تشکیل پائے گا جب مختلف کمپنیوں کے اسٹیشنوں کے معیار، قیمت اور دستیابی کے بارے میں واضح معلومات موجود ہوں۔ پاکستان میں ای وی مارکیٹ ابھی روایتی گاڑیوں کے مقابلے میں چھوٹی ہے، لیکن نئی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی آمد کے ساتھ چارجنگ انفراسٹرکچر کی طلب بڑھنے کی توقع ہے۔