اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو ٹیکس آڈٹ کے لیے کیسز کے انتخاب میں مصنوعی ذہانت اور جدید ڈیٹا اینالیٹکس کے استعمال کو بڑھانے کی تیاری کر رہا ہے۔ مجوزہ نظام کا مقصد ٹیکس دہندگان کے دستیاب مالی اور کاروباری ڈیٹا سے رسک پیٹرن شناخت کرکے ایسے کیسز کو ترجیح دینا ہے جہاں آمدن، فروخت، اثاثوں یا ٹیکس ادائیگی میں غیر معمولی فرق سامنے آئے۔
موجودہ ٹیکس انتظامیہ میں آڈٹ کے لیے انتخاب ایک حساس مرحلہ ہے کیونکہ غیر واضح یا زیادہ انسانی صوابدید پر مبنی طریقہ کار ٹیکس دہندگان کے لیے غیر یقینی اور شکایات کا باعث بن سکتا ہے۔ ڈیٹا پر مبنی رسک سلیکشن کا مقصد یہ ہے کہ آڈٹ محدود وسائل کو ان کیسز پر مرکوز کیا جائے جہاں عدم تعمیل کا امکان نسبتاً زیادہ ہو۔ مصنوعی ذہانت ایسے پیٹرن تلاش کرنے میں مدد دے سکتی ہے جو بڑے ڈیٹا سیٹ میں دستی جائزے سے فوری طور پر سامنے نہ آئیں۔
تاہم خودکار یا الگورتھمک سلیکشن کو کسی ٹیکس دہندہ کے خلاف حتمی خلاف ورزی کا ثبوت نہیں سمجھا جاسکتا۔ رسک اسکور صرف مزید جانچ کی بنیاد فراہم کرتا ہے اور کسی اضافی ٹیکس، جرمانے یا قانونی ذمہ داری کے تعین کے لیے متعلقہ قانون، نوٹس، دستاویزی جانچ اور ٹیکس دہندہ کو جواب دینے کا موقع دینا ضروری ہوگا۔ اسی طرح ڈیٹا کے معیار، غلط یا پرانے ریکارڈ اور الگورتھم میں ممکنہ تعصب سے بچنے کے لیے نگرانی اور اپیل کے مؤثر طریقۂ کار اہم ہوں گے۔
پاکستان میں ٹیکس نظام کی ڈیجیٹلائزیشن کے تحت ایف بی آر پہلے ہی الیکٹرانک انوائسنگ، پوائنٹ آف سیل انضمام، ودہولڈنگ ڈیٹا اور مختلف سرکاری و نجی ڈیٹا ذرائع کے استعمال میں اضافہ کررہا ہے۔ مصنوعی ذہانت پر مبنی آڈٹ سلیکشن اسی وسیع اصلاحاتی سمت کا حصہ ہے۔ اس نظام کی کامیابی کا انحصار صرف ٹیکنالوجی پر نہیں بلکہ ڈیٹا کی درستگی، شفاف رسک قواعد، سائبر سکیورٹی، ٹیکس دہندگان کے قانونی حقوق اور انسانی نگرانی پر بھی ہوگا۔ عملی نفاذ کے بعد یہ دیکھا جاسکے گا کہ نیا نظام آڈٹ کی کارکردگی اور محصولات میں کس حد تک بہتری لاتا ہے۔
