ریکوڈک تانبہ اور سونے کے منصوبے کی شریک کمپنی بیرک مائننگ نے بلوچستان میں سکیورٹی کی صورتحال کو اہم تشویش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مکمل تعمیراتی شیڈول پر آگے بڑھنے سے پہلے حالات میں بہتری دیکھنا چاہتی ہے۔ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو مارک ہل نے Mining Forum Americas میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ریکوڈک سے متعلق ترقیاتی منصوبوں کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے۔
بزنس ریکارڈر کے مطابق مارک ہل نے کہا کہ کمپنی کو مکمل تعمیر کے مرحلے میں داخل ہونے سے پہلے سکیورٹی کی صورتحال میں کسی حد تک بہتری درکار ہے۔ ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ کمپنی نے منصوبے کی سرگرمیوں کی رفتار کم کی ہے اور آئندہ تعمیراتی پروگرام کے بارے میں نظرثانی جاری ہے۔ تاہم انہوں نے کسی نئے تعمیراتی ٹائم لائن کا اعلان نہیں کیا اور نہ ہی سست روی کے مالی یا پیداواری اثرات کی کوئی مقدار بتائی۔
ریکوڈک بلوچستان میں واقع ایک بڑے تانبہ اور سونے کے ذخیرے پر مبنی منصوبہ ہے اور اسے پاکستان کے اہم طویل مدتی کان کنی اور سرمایہ کاری منصوبوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ بڑے پیمانے کی کان کنی کے منصوبوں میں تعمیر، لاجسٹکس، کارکنوں کی نقل و حرکت اور مہنگے آلات کی تنصیب کے لیے مستقل اور قابلِ پیش گوئی سکیورٹی انتظامات بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
بیرک کے تازہ موقف کو منصوبہ منسوخ ہونے کے اعلان کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ کمپنی نے واضح طور پر منصوبے کا جائزہ لینے اور مکمل تعمیراتی شیڈول سے قبل سکیورٹی میں بہتری کی ضرورت کی بات کی ہے۔ اس مرحلے پر کسی نئی تکمیل کی تاریخ یا سرمایہ کاری میں کمی کی تصدیق سامنے نہیں آئی۔
بلوچستان میں حالیہ برسوں کے دوران عسکریت پسند حملوں اور انسداد دہشت گردی کارروائیوں کے باعث بڑے انفراسٹرکچر اور سرمایہ کاری منصوبوں کی سکیورٹی ایک اہم پالیسی مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ ریکوڈک کی آئندہ رفتار اب کمپنی کے تکنیکی اور مالی فیصلوں کے ساتھ ساتھ مقامی سکیورٹی ماحول اور ریاستی انتظامات سے بھی جڑی رہے گی۔
