خیبر پختونخوا کے بٹگرام اور لوئر دیر اضلاع میں پانی کے تیز بہاؤ کے الگ واقعات میں دو افراد جاں بحق ہوگئے، جبکہ سواتی ضلع کے بعض دیہات شدید بارش کے بعد زیرِ آب آگئے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق بٹگرام کے جوز علاقے میں ایک خاتون کو لبریز نالے نے بہا دیا۔ ریسکیو 1122 اور سول ڈیفنس ٹیموں نے لاش نکال کر خاندان کے حوالے کی۔

لوئر دیر کے سدو علاقے میں 14 سالہ لڑکا دریائے پنجکوڑہ میں ڈوب گیا۔ مقامی افراد کے مطابق وہ تیراکی کے لیے دریا گیا تھا اور تیز ریلے میں بہہ گیا۔ موقع پر موجود لوگوں نے اسے پانی سے نکالا، جبکہ ریسکیو 1122 کی طبی ٹیم نے اسپتال منتقل کرتے وقت سی پی آر دی، مگر ڈاکٹروں نے آمد پر اس کی موت کی تصدیق کی۔

ریسکیو 1122 کے ترجمان نے بتایا کہ موجودہ مون سون کے دوران ضلع میں ڈوبنے کے 16 واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں 13 لاشیں نکالی گئیں اور تین افراد کو زندہ بچایا گیا۔ ترجمان کے مطابق ان میں صرف ایک واقعہ براہِ راست سیلاب سے متعلق تھا، جبکہ کئی حادثات پابندی کے باوجود دریاؤں یا ندیوں میں داخل ہونے کے باعث پیش آئے۔ یہ اعداد ترجمان سے منسوب ہیں اور انہیں صوبے بھر کا مجموعہ نہیں سمجھنا چاہیے۔

سواتی کے یار حسین اور دوبیاں دیہات بھی شدید بارش کے بعد پانی میں گھر گئے۔ رہائشیوں نے گھروں، گلیوں، سڑکوں اور کھیتوں میں پانی داخل ہونے کی اطلاع دی۔ ضلع انتظامیہ کے سربراہ نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرکے متعلقہ عملے کو میدان میں موجود رہنے اور صورتِ حال کی نگرانی کی ہدایت کی۔

حکام نے شہریوں سے کہا ہے کہ بارش کے دوران دریاؤں، ندی نالوں، برساتی پانی اور تیز بہاؤ والے مقامات کو غیر ضروری طور پر عبور نہ کریں۔ کسی سڑک یا پل پر پانی چڑھنے کی صورت میں متبادل راستہ اختیار کیا جائے اور مقامی انتظامیہ یا ریسکیو اداروں کی ہدایات پر عمل کیا جائے۔ یہ غیر گرافک رپورٹ اموات کی اطلاع کو ذمہ دارانہ انداز میں متعلقہ حکام سے منسوب کرتی ہے۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک