وزیراعظم شہباز شریف نے حالیہ مون سون بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مالی امداد، بنیادی ڈھانچے کی بحالی اور دور دراز علاقوں تک امدادی سامان پہنچانے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ ڈان نے وزیراعظم آفس کے بیان کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ یہ فیصلے ملک میں بارشوں، سیلاب اور ان سے ہونے والے نقصانات کے جائزہ اجلاس میں کیے گئے۔

بیان کے مطابق وزیراعظم نے سیلاب میں جان گنوانے والے افراد کے اہل خانہ اور جزوی یا مکمل طور پر تباہ ہونے والے گھروں کے متاثرین کو مالی معاونت دینے کو کہا۔ متعلقہ وفاقی وزرا اور سیکرٹریوں کو متاثرہ علاقوں کا دورہ، نقصانات کا تخمینہ، بحالی کام کا آغاز اور امدادی سرگرمیوں میں تیزی لانے کی ہدایت بھی دی گئی۔ امداد کی فی خاندان رقم، ادائیگی کا طریقہ اور حتمی اہلیت معیار رپورٹ میں جاری نہیں ہوئے، اس لیے ان تفصیلات کے بارے میں اندازہ نہیں لگایا جاسکتا۔

اجلاس میں بجلی کی فراہمی اور سڑکوں کی بحالی جلد مکمل کرنے، ضروری خوراک اور امدادی اشیا ان علاقوں تک پہنچانے پر زور دیا گیا جہاں رسائی اب تک مشکل رہی ہے۔ وزیراعظم نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اداروں کو مزید بارش اور ممکنہ سیلاب کے پیشِ نظر مکمل تیاری برقرار رکھنے کی ہدایت کی۔

حکام نے اجلاس کو بتایا کہ ملک بھر میں متاثرین کو بروقت محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا اور 615 ٹن سے زیادہ امدادی سامان متاثرہ علاقوں کو بھیجا جاچکا ہے۔ پنجاب، سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بنیادی ڈھانچے کی بحالی جاری ہے۔ شمالی علاقوں کے قبل از وقت انتباہی نظام نے بھی متعدد شہریوں کے بروقت انخلا میں مدد دی۔

ڈان کے مطابق این ڈی ایم اے کے اعداد میں 26 جون سے 21 اگست تک جاری مون سون کے دوران 164 اموات درج تھیں۔ یہ رپورٹ مالی امداد کے اصولی فیصلے اور انتظامی ہدایات کی تصدیق کرتی ہے؛ انفرادی دعووں کی جانچ، معاوضے کی رقم اور ادائیگی کا شیڈول متعلقہ حکومتوں کے آئندہ نوٹیفکیشن سے واضح ہوگا۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک