پنجاب میں مون سون کا سلسلہ 23 اگست تک جاری رہنے کی پیش گوئی کے ساتھ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے بڑے شہروں میں شہری سیلاب، نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے اور پہاڑی خطوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔ ایکسپریس اردو اور دی نیشن کی رپورٹس کے مطابق لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ اور نارووال سمیت متعدد اضلاع میں انتظامیہ کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ پیش گوئی خطرے کا امکان بتاتی ہے، ہر مقام پر لازماً سیلاب آنے کی تصدیق نہیں۔

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سیالکوٹ میں 87 ملی میٹر، مری اور نارووال میں 53، گجرات میں 24، راولپنڈی میں 21، منگلا میں سات، گوجرانوالہ میں تین اور اٹک میں ایک ملی میٹر بارش رپورٹ ہوئی۔ مقامی سطح پر بارش کی شدت مختلف ہوسکتی ہے اور شہری پانی جمع ہونے کا خطرہ نکاسی کے نظام، زمین کی نمی اور مختصر دورانیے کی شدید بارش سے بڑھتا ہے۔

پی ڈی ایم اے نے متعلقہ ضلعی انتظامیہ، ریسکیو اداروں اور بلدیاتی محکموں کو نکاسی کے مقامات، زیرِ زمین راستوں، ندی نالوں اور حساس آبادیوں کی نگرانی کی ہدایت کی ہے۔ مری اور دوسرے پہاڑی علاقوں میں مسافروں کو موسم اور سڑک کی صورتِ حال دیکھ کر سفر کرنے کی تاکید کی گئی ہے، کیونکہ بارش کے دوران مٹی کے تودے اور پتھر گرنے کا امکان بڑھ سکتا ہے۔

شہریوں کے لیے محفوظ طرزِ عمل میں غیر ضروری سفر سے گریز، بجلی کے کھمبوں اور لٹکتی تاروں سے دور رہنا، زیرِ آب سڑک عبور نہ کرنا اور بچوں کو نالوں یا جمع پانی سے دور رکھنا شامل ہے۔ گاڑی چلانے والوں کو پانی کی گہرائی کا اندازہ نہ ہونے کی صورت میں متبادل راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ ہنگامی مدد یا اطلاع کے لیے پی ڈی ایم اے نے 1129 ہیلپ لائن کا ذکر کیا ہے، جبکہ فوری ریسکیو کے لیے مقامی سرکاری نمبرز بھی استعمال کیے جاسکتے ہیں۔

اگلے مرحلے میں بارش کی حقیقی مقدار اور دریائی و شہری نکاسی کی صورتِ حال خطرے کی شدت طے کرے گی۔ فی الحال الرٹ کا مقصد پیشگی تیاری ہے۔ کسی مخصوص علاقے میں انخلا یا بندش صرف متعلقہ انتظامیہ کے تازہ حکم کے مطابق ہوگی۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک