مقبوضہ مشرقی یروشلم: اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر پیر کو پولیس کے تحفظ میں مسجد اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہوئے۔ انادولو ایجنسی کی رپورٹ، جسے ایکسپریس ٹریبیون نے شائع کیا، کے مطابق بن گویر کے ساتھ پولیس اہلکار اور متعدد اسرائیلی افراد بھی موجود تھے۔ یہ تفصیلات یروشلم کے اسلامی اوقاف کے ایک عہدیدار کے بیان اور گردش کرنے والی تصاویر پر مبنی ہیں۔
اسلامی اوقاف کے عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انادولو کو بتایا کہ اسرائیلی وزیر پولیس محافظوں کے ہمراہ احاطے میں داخل ہوئے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر میں بن گویر کو مسجد کے مشرقی حصے میں عبادت کرتے دیکھا گیا۔ اردو ہیڈ لائنز نے ان تصاویر کی آزادانہ جغرافیائی یا زمانی تصدیق نہیں کی، اس لیے انہیں خبر رساں ادارے کی رپورٹ شدہ شہادت کے طور پر بیان کیا جا رہا ہے۔
بن گویر یہودی طاقت پارٹی کے سربراہ ہیں اور اس سے پہلے بھی مسجد اقصیٰ کے احاطے میں متعدد بار داخل ہو چکے ہیں۔ ایسے دوروں پر فلسطینی، عرب، اسلامی اور مختلف بین الاقوامی حلقوں کی جانب سے مذمت سامنے آتی رہی ہے۔ تازہ واقعہ اسرائیل کے 27 اکتوبر کو مقرر عام انتخابات سے تقریباً دو ماہ پہلے پیش آیا، تاہم دستیاب رپورٹ یہ ثابت نہیں کرتی کہ اس دورے کا انتخابی مقصد باضابطہ طور پر اعلان کیا گیا تھا۔
مسجد اقصیٰ مسلمانوں کے لیے دنیا کا تیسرا مقدس ترین مقام ہے۔ یہودی اس مقام کو ٹیمپل ماؤنٹ کہتے ہیں اور اسے قدیم یہودی معابد سے منسوب کرتے ہیں۔ مذہبی حساسیت اور مقبوضہ مشرقی یروشلم کی متنازع قانونی و سیاسی حیثیت کے باعث یہاں سرکاری شخصیات کی آمد اکثر کشیدگی اور سفارتی ردعمل کا سبب بنتی ہے۔
انادولو کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی پولیس 2003 سے جمعہ اور ہفتہ کے علاوہ دیگر دنوں میں اسرائیلی افراد کو احاطے میں داخل ہونے کی اجازت دیتی آئی ہے۔ فلسطینی مشرقی یروشلم کو اپنی مستقبل کی ریاست کا دارالحکومت سمجھتے ہیں اور ان بین الاقوامی قراردادوں کا حوالہ دیتے ہیں جو 1967 کے قبضے اور 1980 کے اسرائیلی الحاق کو تسلیم نہیں کرتیں۔ یہ تاریخی و قانونی پس منظر تازہ داخلے کی حساسیت واضح کرتا ہے، مگر کسی فریق کے تمام قانونی دعووں کا حتمی فیصلہ نہیں۔
دستیاب رپورٹ میں اسرائیلی حکومت یا پولیس کی جانب سے تازہ دورے کے مقصد، اجازت کے طریقہ کار یا اوقاف کے عہدیدار کے بیان پر تفصیلی ردعمل شامل نہیں۔ اگلی قابلِ تصدیق پیش رفت کسی باضابطہ سرکاری وضاحت، اسلامی اوقاف کے تحریری بیان، فلسطینی ردعمل یا سفارتی احتجاج کی صورت میں ہوگی۔ اردو ہیڈ لائنز رپورٹ شدہ داخلے، تصاویر کے دعوے اور بعد کے سرکاری نتائج کو الگ الگ حیثیت میں بیان کرے گا۔ — اردو ہیڈ لائنز ڈیسک




