پاکستان نے سیلاب سے متاثرہ نیپال کے لیے 86 ٹن ہنگامی امدادی سامان روانہ کرنے کا انتظام کیا ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق تجارتی چارٹرڈ طیارے کے ذریعے بھیجی جانے والی کھیپ میں عارضی رہائش، خوراک، صحت اور روزمرہ ضروریات سے متعلق سامان شامل ہے۔ امدادی کارروائی وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایات کے تحت اور نیپال میں فوری انسانی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ترتیب دی گئی ہے۔

این ڈی ایم اے کے مطابق کھیپ میں خیمے، کمبل، تیار کھانے، خشک راشن، کیمپ سے متعلق سامان، حفظان صحت کی کٹس اور ادویات شامل ہیں۔ یہ اشیا سیلاب کے بعد بے گھر ہونے والے افراد کے لیے عارضی پناہ، خوراک، صاف پانی سے متعلق ضروریات اور بنیادی طبی امداد میں معاونت کے لیے فراہم کی جا رہی ہیں۔ حکام نے امدادی سامان کی مجموعی مقدار 86 ٹن بتائی ہے۔

وزارت خارجہ کے ساتھ طے شدہ انتظام کے مطابق پاکستان کے سفیر امدادی کھیپ وصول کریں گے، جس کے بعد اسے نیپال کے متعلقہ حکام، بشمول نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی، کے حوالے کیا جائے گا۔ اس طریقہ کار کا مقصد امداد کو نیپالی اداروں کے موجودہ ریسپانس نظام کے ذریعے متاثرہ علاقوں تک پہنچانا ہے تاکہ تقسیم مقامی ضروریات اور ترجیحات کے مطابق ہوسکے۔

نیپال میں شدید بارشوں اور سیلاب نے متعدد علاقوں میں معمولات زندگی، نقل و حمل اور بنیادی خدمات کو متاثر کیا ہے۔ پہاڑی جغرافیہ بارش کے دوران سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات کو بڑھاتا ہے اور بعض متاثرہ آبادیوں تک زمینی رسائی مشکل ہوسکتی ہے۔ ایسے حالات میں خیموں، خوراک، ادویات اور حفظان صحت کی اشیا پر مشتمل فوری امداد ابتدائی ریسپانس میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ پاکستان کی جانب سے بھیجی جانے والی کھیپ اسی ہنگامی مرحلے کی ضروریات کے لیے مختص کی گئی ہے۔

این ڈی ایم اے بیرون ملک قدرتی آفات کے بعد پاکستان کی سرکاری انسانی امداد کی ترسیل میں مرکزی رابطہ ادارے کے طور پر کام کرتا ہے۔ اس عمل میں وزارت خارجہ اور متعلقہ ملک میں پاکستانی سفارتی مشن کے ساتھ رابطہ کیا جاتا ہے تاکہ امدادی سامان کی وصولی اور حوالگی کے انتظامات مکمل ہوں۔ تازہ کھیپ کو بھی پاکستان اور نیپال کے درمیان سرکاری رابطے کے تحت ترتیب دیا گیا ہے۔

امدادی پرواز 31 اگست کو روانہ کرنے کا شیڈول بتایا گیا۔ کھیپ کی نیپال میں تقسیم، مخصوص متاثرہ علاقوں تک ترسیل اور آئندہ کسی اضافی پاکستانی امداد کے بارے میں مزید تفصیلات متعلقہ حکام کے آئندہ بیانات سے سامنے آئیں گی۔ موجودہ اعلان 86 ٹن کی ایک مخصوص امدادی کھیپ سے متعلق ہے اور اسے نیپال کی مجموعی انسانی ضروریات یا تمام بین الاقوامی امداد کا احاطہ نہیں سمجھا جانا چاہیے۔