واشنگٹن: امریکی انتظامیہ نے جامعات کے لیے ایک میمو جاری کیا ہے جس میں غیر ملکی طلبہ کو دی جانے والی بعض انٹرن شپ ورک اجازتوں، خصوصاً کرکیولر پریکٹیکل ٹریننگ یا سی پی ٹی، کے قواعد پر سختی سے عملدرآمد کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ڈان میں 28 اگست کو شائع ہونے والی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق وفاقی حکام نے خبردار کیا ہے کہ قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے ادارے غیر ملکی طلبہ کو داخلہ دینے کی سرٹیفکیشن کھو سکتے ہیں۔
24 اگست کی تاریخ والے میمو میں اسٹوڈنٹ اینڈ ایکسچینج وزیٹر پروگرام، یعنی ایس ای وی پی، نے کہا کہ بعض سی پی ٹی اجازتیں ایسی دکھائی دیتی ہیں جو موجودہ ضوابط سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ پروگرام امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کا حصہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق ضابطہ سی پی ٹی کو اسی تربیت تک محدود کرتا ہے جو کسی قائم شدہ تعلیمی نصاب کا لازمی حصہ ہو۔
میمو میں جامعات کو مطلع کیا گیا کہ ایس ای وی پی قواعد کی پابندی نہ ہونے کی صورت میں کسی ادارے کی غیر ملکی طلبہ داخل کرنے کی اہلیت متاثر ہوسکتی ہے۔ اس انتباہ کے بعد یونیورسٹی آف کیلیفورنیا لاس اینجلس اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا برکلے سمیت بعض اداروں نے مخصوص ورک اجازت درخواستوں پر کارروائی عارضی طور پر روک دی تاکہ نئی وفاقی رہنمائی کا جائزہ لیا جاسکے۔
یو سی ایل اے کے ترجمان نے رائٹرز کو بتایا کہ یونیورسٹی نے بعض سی پی ٹی اجازتیں عارضی طور پر روک رکھی ہیں اور اگلے اقدامات طے کیے جا رہے ہیں۔ یو سی برکلے کے بین الاقوامی دفتر نے میمو کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ محدود اور براہ راست قرار دیا اور کہا کہ ممکن ہے کچھ درخواستیں قریب مدت میں پراسیس نہ ہوسکیں۔ ساتھ ہی ادارے نے واضح کیا کہ ڈگری کی لازمی شرط سے متعلق سی پی ٹی معمول کے مطابق جاری رہے گی، جبکہ ڈاکٹریٹ مقالے یا ماسٹرز تھیسس کی تحقیق سے وابستہ سی پی ٹی درخواستوں کی پروسیسنگ دوبارہ شروع کی جائے گی۔
امریکی محکمہ داخلی سلامتی نے کہا کہ ضوابط خود تبدیل نہیں ہوئے، تاہم تعلیمی اداروں اور آجروں کو قواعد کے غلط استعمال کے خلاف واضح تنبیہ دی گئی ہے۔ اس وضاحت کی وجہ سے اس پیش رفت کو تمام غیر ملکی طلبہ کی ہر قسم کی انٹرن شپ پر مکمل پابندی کہنا درست نہیں ہوگا۔ دستیاب رپورٹ بعض سی پی ٹی اجازتوں کی سخت جانچ اور اداروں کے لیے تعمیلی خطرے کی بات کرتی ہے، کسی نئے قانون یا تمام ورک پروگراموں کی فوری منسوخی کی نہیں۔
اس میمو کا عملی اثر ہر جامعہ کی پالیسی، طالب علم کے نصاب اور درخواست کی نوعیت کے مطابق مختلف ہوسکتا ہے۔ رپورٹ میں متاثرہ طلبہ کی مجموعی تعداد، پاکستانی طلبہ کی الگ تعداد یا تمام امریکی جامعات کے لیے یکساں معطلی کا کوئی عدد نہیں دیا گیا۔ اسی لیے کسی فرد کے امیگریشن یا تعلیمی درجے کے بارے میں عمومی نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا۔ طلبہ کے مخصوص معاملات میں متعلقہ جامعہ کا بین الاقوامی دفتر اور سرکاری ایس ای وی پی ہدایات فیصلہ کن ہوں گی۔
فی الحال تصدیق شدہ صورتحال یہ ہے کہ وفاقی میمو نے سی پی ٹی کے نصاب سے حقیقی تعلق پر زور بڑھایا ہے، چند بڑی جامعات نے بعض درخواستوں کو جائزے کے دوران روکا ہے، اور حکام نے عدم تعمیل پر ادارہ جاتی سرٹیفکیشن کے ممکنہ نقصان کی وارننگ دی ہے۔ آئندہ اگر عدالت، محکمہ داخلی سلامتی یا جامعات کوئی نئی تشریح جاری کریں تو اس رپورٹ کو اس کے مطابق اپ ڈیٹ کرنا ضروری ہوگا۔ — اردو ہیڈ لائنز ڈیسک




