واشنگٹن: امریکی حکومت نے دنیا بھر میں امیگرنٹ ویزا درخواستوں کی کارروائی عارضی طور پر روک دی ہے۔ ایکسپریس اردو کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے اس اقدام کو قونصلر افسران کی خصوصی اور تفصیلی تربیت سے جوڑا ہے۔ اس فیصلے کا تعلق مستقل طور پر امریکا منتقل ہونے کے خواہش مند افراد کی امیگرنٹ ویزا کارروائی سے ہے؛ رپورٹ تمام غیر امیگرنٹ سیاحتی یا کاروباری ویزا خدمات کے مکمل خاتمے کا اعلان نہیں کرتی۔
فنانشل ٹائمز سے منسوب رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ امیگرنٹ ویزا درخواست گزاروں کی جانچ مزید سخت کرنا چاہتی ہے، خصوصاً یہ دیکھنے کے لیے کہ آیا حکام کے خیال میں کوئی درخواست گزار مستقبل میں امریکی حکومت کی مالی معاونت یا عوامی سہولتوں پر انحصار کرسکتا ہے۔ یہ پالیسی کی بیان کردہ سمت ہے اور کسی انفرادی درخواست پر پیشگی فیصلہ نہیں۔
بعض درخواست گزاروں کو، جن کے سفارت خانوں یا قونصل خانوں میں انٹرویو پہلے سے مقرر تھے، ای میل کے ذریعے بتایا گیا ہے کہ ان کی ملاقات دوبارہ طے کی جائے گی۔ نئی تاریخ اور وقت بعد میں دینے کی اطلاع دی گئی۔ امریکی محکمہ خارجہ نے معمول کی کارروائی دوبارہ شروع ہونے کی کوئی حتمی تاریخ نہیں بتائی، جس سے زیرِ التوا درخواستوں کا شیڈول غیر یقینی ہوگیا ہے۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان کے مطابق تربیتی دور میں مقررہ اپائنٹمنٹس تبدیل کی جائیں گی تاکہ دنیا بھر کے قونصلر افسر ہر درخواست گزار کی جامع اور یکساں بنیاد پر جانچ کرسکیں۔ رپورٹ میں امیگریشن ماہرین نے نشاندہی کی کہ انٹرویو کے لیے سفر، رہائش اور دیگر انتظامات پر رقم خرچ کرنے والے افراد کو اضافی مالی اور عملی مشکلات پیش آسکتی ہیں۔ کسی مخصوص درخواست گزار کی نئی تاریخ متعلقہ سفارت خانے یا قونصل خانے کی باضابطہ اطلاع ہی سے معلوم ہوگی۔
ایکسپریس کی رپورٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کی وسیع امیگریشن پالیسی کا بھی ذکر کیا، جس میں ایسے معاملات کی جانچ شامل ہے جہاں عارضی ویزے پر آنے والا شخص بعد میں پناہ کی درخواست دے۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ اگر داخلے کے وقت اصل نیت چھپائی گئی ہو تو اسے ویزا قواعد کی خلاف ورزی سمجھا جاسکتا ہے۔ ہر معاملے میں حقائق اور قانونی طریقۂ کار الگ ہوں گے؛ پناہ کی درخواست بذاتِ خود اس رپورٹ میں ہر ویزا منسوخی کا ثابت شدہ سبب نہیں بنائی گئی۔
وائٹ ہاؤس نے تقریباً دو لاکھ ویزے متاثر ہونے کا دعویٰ کیا، لیکن رپورٹ کے مطابق محکمہ خارجہ نے اس عدد کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔ اسی طرح محکمہ خارجہ نے جنوری 2025 کے بعد تقریباً ایک لاکھ 75 ہزار ویزے مختلف وجوہات سے منسوخ ہونے کا عدد بیان کیا۔ یہ پہلے سے منسوخ ویزوں کا الگ سرکاری دعویٰ ہے اور موجودہ عارضی امیگرنٹ ویزا پروسیسنگ وقفے کے زیرِ التوا درخواست گزاروں کی گنتی نہیں۔
موجودہ قابلِ تصدیق نتیجہ یہ ہے کہ امیگرنٹ ویزا کارروائی تربیت کے لیے عارضی طور پر رکی ہے، بعض انٹرویوز دوبارہ مقرر ہوں گے اور بحالی کی تاریخ کا انتظار ہے۔ درخواست گزاروں کو اپنی مخصوص اپائنٹمنٹ کے لیے صرف امریکی محکمہ خارجہ، متعلقہ سفارت خانے یا قونصل خانے کی براہِ راست ہدایت پر انحصار کرنا چاہیے۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




