ایران اور عمان آبنائے ہرمز میں عارضی جہاز رانی راہداری کھولنے اور بارودی سرنگیں صاف کرنے کے منصوبے پر مذاکرات کر رہے ہیں۔ ڈان نے اے ایف پی کے حوالے سے بتایا کہ دونوں ممالک ابھی آبی گزرگاہ مکمل طور پر کھولنے کی شرائط پر متفق نہیں ہوئے، لیکن تہران اور مسقط کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی تیل اور گیس تجارت کا اہم راستہ ہے، اس لیے محدود بحری آمدورفت کی بحالی بھی علاقائی اور عالمی اہمیت رکھتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق فروری کے آخر میں امریکا اور اسرائیل کے حملوں سے شروع ہونے والی جنگ کے بعد ایران نے راستے کو مفلوج کر رکھا ہے۔ جون میں پاکستان کی ثالثی سے امریکا اور ایران کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت طے ہوئی تھی، جس میں آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے اور مستقبل کے انتظام و بحری خدمات کی شرائط ایران اور عمان کے سپرد کرنے کا خاکہ تھا۔ بعد میں جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے متوقع وسیع معاہدہ برقرار نہ رہ سکا۔
تہران میں ایرانی اور عمانی وزرائے خارجہ نے ایک فریم ورک معاہدے پر گفتگو کی۔ مشترکہ بیان کے مطابق اس میں عارضی راہداری اور سرنگیں صاف کرنے کا منصوبہ شامل ہے۔ عمانی وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے کہا کہ محفوظ جہاز رانی کے عملی انتظامات جلد سامنے آنے کی امید ہے، جبکہ مستقل انتظام بعد میں طے کیا جائے گا۔ یہ مذاکراتی توقع ہے، راہداری کے باقاعدہ کھلنے کا اعلان نہیں۔
ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی کے مطابق زیر غور نقشے میں خلیج میں داخل ہونے والے جہاز ایرانی پانیوں اور باہر جانے والے جہاز عمانی پانیوں سے گزریں گے۔ ان کے بقول عارضی منصوبہ طے ہونے کے بعد مستقل راستے پر اتفاق کے لیے 30 سے 60 دن درکار ہوسکتے ہیں۔ ایرانی پاسداران انقلاب مذاکرات میں شریک ہیں اور فیس سے حاصل ہونے والی آمدن تقسیم کرنے کا تصور بھی زیر بحث ہے، جسے واشنگٹن مسترد کرچکا ہے۔
تہران مکمل کھولنے کو جنگ کے خاتمے، پابندیوں اور بندرگاہوں کے محاصرے سمیت امریکی رعایتوں سے جوڑ رہا ہے۔ ایران نے جنگی نقصان کے ازالے اور سکیورٹی ضمانتوں کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ عمان کی کوشش ہے کہ آزاد جہاز رانی کو وسیع جنگ سے ممکن حد تک الگ رکھا جائے اور دوسرے ساحلی خلیجی ممالک کو بھی انتظام میں شامل کیا جائے۔
ماہرین کے مطابق مذاکرات میں خودمختاری، عدالتی اختیار، جہازوں کا کنٹرول، ممکنہ فیس اور بین الاقوامی قانون جیسے پیچیدہ سوال شامل ہیں۔ امریکا نے ایران عمان کے تازہ مشترکہ بیان کا فوری جواب نہیں دیا۔ اس مرحلے پر مصدقہ پیش رفت مذاکرات اور عارضی راہداری کا زیر بحث خاکہ ہے؛ محفوظ آمدورفت کی عملی تاریخ، فیس اور مستقل انتظام ابھی طے نہیں ہوئے۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




