کیوبا کے صدر میگل دیاز کانیل نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ بات چیت تعطل کا شکار ہے اور باقاعدہ مذاکرات کے لیے کوئی واضح ایجنڈا موجود نہیں۔ دی نیشن نے برازیلی اخبار فولہا ڈی ساؤ پاؤلو کے انٹرویو کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ کیوبا کے بعض حکام نے امریکی حکومت سے رابطہ کیا ہے، مگر پیش رفت نہیں ہوسکی۔
دیاز کانیل نے کہا کہ ہوانا واشنگٹن کے ساتھ رابطے کا راستہ قائم کرنے کے لیے تیار ہے، لیکن ان کے بقول دباؤ اور پیشگی شرائط کے ماحول میں مذاکرات نہیں ہوسکتے۔ انہوں نے ٹرمپ انتظامیہ پر کیوبا کو معاشی طور پر محدود کرکے سماجی بحران پیدا کرنے کی کوشش کا الزام عائد کیا۔ یہ کیوبا کے صدر کا سیاسی مؤقف ہے؛ امریکی حکومت کا جواب دستیاب رپورٹ میں شامل نہیں۔
کیوبا کے صدر نے ملک کے معاشی مسائل اور ایندھن، بجلی، خوراک اور ادویات کی قلت کا انکار نہیں کیا، مگر یہ دعویٰ مسترد کیا کہ ملک فوری تباہی کے قریب ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالات پیچیدہ ہیں لیکن کیوبا کے عوام تخلیقی صلاحیت اور تاریخی مزاحمت کے ساتھ ان کا سامنا کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دیاز کانیل کے اقتدار سنبھالنے کے بعد معیشت میں 15 فیصد سکڑاؤ کے اعداد انٹرویو میں پیش کیے گئے۔
انہوں نے حکومتی بیوروکریسی اور اصلاحات کے نفاذ میں تاخیر کو داخلی مسائل کے طور پر تسلیم کیا، تاہم بحران کی بنیادی وجہ امریکی پابندیوں کو قرار دیا۔ اس نسبت کو کیوبا حکومت کا موقف سمجھنا ضروری ہے؛ معاشی سکڑاؤ پر داخلی پالیسی، عالمی تجارت، توانائی کی دستیابی اور بیرونی پابندیوں کے الگ الگ اثرات کی مکمل آزاد پیمائش اس خبر میں موجود نہیں۔
دیاز کانیل نے جون میں کیوبا کی پارلیمان سے منظور ہونے والے 176 معاشی اقدامات کا دفاع کیا۔ رپورٹ کے مطابق ان اقدامات میں نجی کاروبار اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے کردار کو وسعت دی گئی ہے، مگر صدر نے کہا کہ مقصد سرمایہ دارانہ نظام کی طرف جانا نہیں بلکہ سوشلسٹ معاشی ماڈل کو مضبوط کرنا ہے۔ عملی اثرات نفاذ، سرمایہ کاری اور پیداوار کے بعد جانچے جا سکیں گے۔
موجودہ پیش رفت کسی نئے کیوبا امریکا مذاکرات، پابندیوں میں نرمی یا معاہدے کا اعلان نہیں ہے۔ تصدیق شدہ بات یہ ہے کہ کیوبا کے صدر نے بغیر پیشگی شرائط بات چیت کی آمادگی ظاہر کی، امریکی معاشی دباؤ کی مذمت کی اور کہا کہ ان کا ملک خودمختاری کا دفاع جاری رکھے گا۔ اگلا عملی مرحلہ کسی متفقہ ایجنڈے، سرکاری وفد یا باضابطہ مذاکراتی تاریخ سے ثابت ہوگا۔




