امریکی محکمہ خارجہ نے دنیا بھر میں سفارت خانوں اور قونصل خانوں کے ویزا افسران کے لیے تربیتی پروگرام شروع کرتے ہوئے بعض ویزا اپائنٹمنٹس کو مؤخر یا دوبارہ مقرر کرنا شروع کردیا ہے۔ دی نیشن کے مطابق محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ شیڈول کو تربیت کے مطابق ایڈجسٹ کیا جا رہا ہے، تاہم پروگرام کی مدت اور متاثر ہونے والی اپائنٹمنٹس کی تعداد نہیں بتائی گئی۔

محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ تربیت کا مقصد قونصلر افسران کو ایسے درخواست گزاروں کی شناخت میں مدد دینا ہے جو ممکنہ طور پر امریکی سرکاری فوائد پر انحصار کرسکتے ہوں، اور ویزا درخواستوں کا جامع اور یکساں جائزہ یقینی بنانا ہے۔ یہ محکمہ خارجہ کی بیان کردہ وجہ ہے؛ ہر مؤخر اپائنٹمنٹ کے انفرادی فیصلے یا نتیجے کی ضمانت نہیں۔

فنانشل ٹائمز کی ابتدائی رپورٹ کے حوالے سے بتایا گیا کہ طے شدہ انٹرویو رکھنے والے بعض امیگرنٹ ویزا درخواست گزاروں کو ای میل کے ذریعے اپائنٹمنٹ دوبارہ مقرر ہونے کی اطلاع ملی۔ انہیں کہا گیا کہ نئی تاریخ کے بارے میں بعد میں آگاہ کیا جائے گا۔ دستیاب خبر سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ہر ملک، ہر سفارت خانے یا ہر ویزا زمرے کی تمام اپائنٹمنٹس منسوخ کردی گئی ہیں؛ درست تعبیر عالمی تربیت کے دوران شیڈول میں ایڈجسٹمنٹ ہے۔

یہ پیش رفت ٹرمپ انتظامیہ کی وسیع امیگریشن پالیسی کے دوران سامنے آئی ہے، جس میں ویزا اور گرین کارڈ منسوخی، درخواستوں کی اضافی جانچ اور بعض سیاسی سرگرمیوں سے متعلق چھان بین شامل رہی ہے۔ صدر ٹرمپ ان اقدامات کو داخلی سلامتی کے لیے ضروری قرار دیتے ہیں، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے امتیاز، آزادی اظہار اور قانونی عمل سے متعلق خدشات اٹھائے ہیں۔ دونوں مؤقف الگ اور منسوب دعوے ہیں۔

دی نیشن کے مطابق ایک امریکی جج نے 75 ممالک کے درخواست گزاروں کو امیگرنٹ ویزا جاری کرنے کی معطلی کی ایک الگ پالیسی کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیر خارجہ نے قانونی اختیار سے تجاوز کیا۔ یہ عدالتی فیصلہ موجودہ تربیتی شیڈول کے ہر پہلو کو خودکار طور پر ختم نہیں کرتا، مگر امیگریشن اقدامات پر جاری قانونی جانچ کے تناظر کو واضح کرتا ہے۔

متاثرہ درخواست گزاروں کے لیے قابلِ اعتماد معلومات ان کے سفارت خانے یا قونصل خانے کی براہ راست ای میل، سرکاری اپائنٹمنٹ پورٹل اور محکمہ خارجہ کی ہدایات ہوں گی۔ نئی تاریخ ملنے تک غیر سرکاری ایجنٹوں کے دعووں پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ فی الحال مدت، مجموعی متاثرہ تعداد اور ملک وار فہرست نامعلوم ہے۔