اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی موجودہ قیادت کے ساتھ کسی قابل اعتماد سفارتی معاہدے تک پہنچنا ممکن نہیں۔ ایکسپریس اردو نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ نیتن یاہو نے ایک تقریب سے خطاب میں ایرانی حکمرانوں کے لیے سخت الفاظ استعمال کیے اور مذاکرات سے نتیجہ نکلنے کے امکان پر شکوک ظاہر کیے۔

نیتن یاہو کے مطابق انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ حالیہ ملاقات میں ایران کے معاملے پر سفارت کاری کے امکانات پر بات کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ ایرانی قیادت کے ساتھ قابل اعتماد معاہدے کی امید محدود ہے۔ یہ اسرائیلی وزیراعظم کا سیاسی اندازہ اور دعویٰ ہے؛ اسے ایران، امریکا یا ثالث ملکوں کی جانب سے مذاکرات ختم کرنے کے مشترکہ اعلان کے طور پر پیش نہیں کیا جاسکتا۔

اسرائیلی وزیراعظم نے ایران کے خلاف امریکی اقتصادی دباؤ کی مہم کو بھی سراہا۔ رپورٹ کے مطابق امریکا نے حالیہ عرصے میں ایران پر مزید مالی اور اقتصادی دباؤ کے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ نیتن یاہو کا بیان ایسے وقت سامنے آیا جب ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز سمیت خطے کے معاملات پر سفارتی رابطے بھی زیر بحث ہیں۔

رپورٹ میں کسی نئے باضابطہ مذاکراتی دور کے منسوخ ہونے، کسی تحریری معاہدے کو مسترد کیے جانے یا ثالثی کے مکمل خاتمے کی تصدیق شامل نہیں۔ اسی طرح نیتن یاہو کی رائے ایران کے ردعمل یا امریکی حکومت کی حتمی مذاکراتی پالیسی کی جگہ نہیں لے سکتی۔ سفارتی عمل کی اصل حالت متعلقہ حکومتوں کے سرکاری بیانات اور عملی اقدامات سے واضح ہوگی۔

ایران کے جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیوں اور علاقائی سلامتی پر برسوں سے مذاکرات اور دباؤ ساتھ ساتھ چلتے آئے ہیں۔ موجودہ بیان میں نیتن یاہو نے دباؤ پر مبنی راستے کی حمایت کی، لیکن خبر میں کسی فوری فوجی فیصلے یا نئی کارروائی کا اعلان نہیں بتایا گیا۔

اردو ہیڈلائنز نے تقریر میں استعمال کیے گئے توہین آمیز الفاظ دہرانے کے بجائے ان کے سیاسی مفہوم کو ذمہ دارانہ انداز میں بیان کیا ہے۔ مرکزی خبر یہ ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نے سفارتی معاہدے کے امکان پر عدم اعتماد ظاہر کیا اور امریکی اقتصادی دباؤ کی حمایت کی؛ مذاکرات کے حتمی انجام سے متعلق کوئی غیر مشروط نتیجہ اخذ نہیں کیا گیا۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک