نیویارک سٹی کے میئر زہران ممدانی نے بھارت کی ہندو قوم پرست تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سربراہ موہن بھاگوت کی مین ہیٹن میں مجوزہ تقریب کی مخالفت کی ہے، مگر ساتھ ہی واضح کیا ہے کہ شہر کے پاس ایک نجی پروگرام منسوخ کرنے کا قانونی اختیار ہے یا نہیں، یہ بات ان کے لیے واضح نہیں۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق تقریب 29 اگست کو منعقد ہونا ہے اور منتظمین نے اسے یونیورسل آنینس سیلیبریشن کا نام دیا ہے۔

ممدانی نے کہا کہ وہ اس اجتماع کی حمایت نہیں کرتے، لیکن نجی مقام پر ہونے والی تقریب کے خلاف شہری حکومت کے دائرۂ اختیار کو دیکھنا ضروری ہے۔ ان کا بیان سیاسی اختلاف اور قانونی اختیار کے درمیان فرق کو نمایاں کرتا ہے۔ کسی پروگرام کی مخالفت بذات خود اس کی منسوخی کا حکم نہیں ہوتی، اور رپورٹ میں ایسی کسی سرکاری منسوخی یا عدالتی پابندی کا ذکر نہیں۔ اس لیے خبر کا درست مفہوم میئر کے اظہارِ مخالفت اور اختیار سے متعلق احتیاط تک محدود ہے۔

آر ایس ایس بھارت کی حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کی نظریاتی جڑوں سے منسلک سمجھی جاتی ہے۔ تنظیم اپنے بارے میں عدم برداشت کے الزامات کو مسترد کرتی ہے، جبکہ ناقدین اسے مذہبی اقلیتوں کے خلاف ہندو قوم پرستانہ سیاست سے جوڑتے ہیں۔ پروگرام کے منتظمین نے تقریب کو اتحاد اور یکجہتی کے تصور کے ساتھ پیش کیا ہے۔ ان متضاد مؤقف کو کسی حتمی عدالتی یا سرکاری نتیجے کے طور پر نہیں، بلکہ متعلقہ فریقوں کے دعووں اور سیاسی موقف کے طور پر سمجھنا ضروری ہے۔

امریکا میں بھارتی سیاست اور مذہبی آزادی کے موضوع پر بحث نئی نہیں۔ انسانی حقوق کے گروپ اور امریکی مذہبی آزادی کمیشن وقتاً فوقتاً بھارت میں اقلیتوں، نفرت انگیز بیان اور مذہبی امتیاز سے متعلق خدشات ظاہر کرتے رہے ہیں، جبکہ بھارتی حکومت ایسے الزامات کو مسترد کرتی اور اپنے آئینی و جمہوری ڈھانچے کا دفاع کرتی ہے۔ نیویارک کی کثیرالثقافتی آبادی کے باعث بیرونِ ملک سیاسی و مذہبی تنظیموں کے پروگرام مقامی آزادی اظہار، اجتماع کے حق اور کمیونٹی تحفظ کی بحث سے بھی جڑ جاتے ہیں۔

اب اہم عملی نکتہ یہ ہے کہ تقریب طے شدہ نجی مقام پر ہوتی ہے یا منتظمین، مقام کے منتظم اور شہری حکام کوئی نیا فیصلہ کرتے ہیں۔ رپورٹ کے وقت تک میئر کی مخالفت سامنے آچکی تھی، مگر شہر کی جانب سے منسوخی کا اعلان نہیں ہوا تھا۔ آئندہ کسی تبدیلی کو قانونی حکم، منتظمین کے رضاکارانہ فیصلے یا مقام کے ضابطے کے مطابق الگ الگ بیان کرنا ہوگا تاکہ سیاسی ردعمل کو سرکاری پابندی سمجھنے کی غلطی نہ ہو۔ — اردو ہیڈ لائنز ڈیسک