اقوام متحدہ کی نسلی امتیاز کے خاتمے کی کمیٹی نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ قبائلی، دلت، نسلی و مذہبی اقلیتی گروہوں اور غیر شہری افراد کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں سے منسوب سنگین خلاف ورزیوں کی تحقیقات کرے۔ ڈان میں شائع اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق کمیٹی نے ماورائے عدالت ہلاکتوں، ضرورت سے زیادہ طاقت، من مانی حراست، تشدد، بدسلوکی اور جنسی تشدد سے متعلق اطلاعات پر گہری تشویش ظاہر کی۔ یہ کمیٹی کے مشاہدات اور الزامات ہیں؛ ہر انفرادی واقعے کی ذمہ داری الگ تفتیش سے ثابت ہوگی۔
کمیٹی نے خاص طور پر شیڈولڈ ٹرائبز، شیڈولڈ کاسٹس بالخصوص دلت، نسلی و مذہبی گروہوں اور غیر شہریوں کا ذکر کیا۔ اس نے بھارت سے کہا کہ الزامات کی مؤثر اور غیر جانب دار تحقیقات کرکے ذمہ دار افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ کمیٹی کی آرا اور سفارشات قانونی طور پر لازمی حکم نہیں، لیکن نسلی امتیاز کے خاتمے کے عالمی کنونشن پر عمل کی بین الاقوامی نگرانی میں ان کی اہمیت ہے۔
رپورٹ میں بنگالی بولنے والے مسلمانوں، روہنگیا، مہاجرین اور پناہ کے متلاشی افراد کے خلاف پولیس کارروائیوں، نسلی پروفائلنگ، شناختی جانچ، حراست اور جبری واپسی سے متعلق خدشات بھی بیان کیے گئے۔ کمیٹی نے امتیاز، نفرت انگیز بیان اور نفرت پر مبنی جرائم سے فوری نمٹنے، حقوق کا تحفظ کرنے اور اجتماعی بے دخلی سے گریز کا مطالبہ کیا۔ اس نے کہا کہ بین الاقوامی تحفظ کے محتاج افراد کو زبردستی واپس بھیجنے کے الزامات بھی توجہ چاہتے ہیں۔
بھارت اس ماہ کمیٹی کے سامنے 2007 کے بعد پہلی بار جائزے کے لیے پیش ہوا تھا اور اس کے وفد کی قیادت سولیسیٹر جنرل تشار مہتا نے کی۔ کمیٹی کے ایک رکن نے کہا کہ قانون کی موجودگی کافی نہیں اگر اس پر مؤثر عمل نہ ہو اور نفرت پر مبنی جرائم میں جواب دہی دکھائی نہ دے۔ انسانی حقوق کے محافظوں کے بارے میں بھارت نے احترام کا موقف پیش کیا، مگر کمیٹی نے عملی سطح پر دھمکیوں اور منفی ماحول کے مکمل ازالے پر سوال اٹھایا۔
کمیٹی 18 آزاد ماہرین پر مشتمل ہے اور 182 رکن ممالک کے کنونشن پر عمل کا جائزہ لیتی ہے۔ اس کی رپورٹ کو عدالتی فیصلہ یا بھارت کے تمام اداروں کے خلاف ثابت شدہ جرم نہیں سمجھنا چاہیے، مگر یہ حکومت کے لیے پالیسی، تحقیقات اور قانون کے نفاذ سے متعلق واضح سفارشات رکھتی ہے۔ اگلا قابل جانچ مرحلہ بھارتی حکومت کا تفصیلی جواب، تحقیقات اور سفارشات پر عملی پیش رفت ہوگا۔ — اردو ہیڈ لائنز ڈیسک




