امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی رہنما مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت اور موجودگی کے بارے میں ایک نیا دعویٰ کیا ہے۔ ایکسپریس اردو کے مطابق ٹرمپ نے قدامت پسند ریڈیو میزبان گلین بیک کو دیے گئے لائیو فون انٹرویو میں کہا کہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں، تاہم ان کے جسم کے بائیں حصے، بازو اور ٹانگ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ یہ ٹرمپ کا بیان ہے؛ رپورٹ میں اس کی آزاد طبی تصدیق یا ایرانی حکومت کی جانب سے اسی تفصیل کی توثیق شامل نہیں۔
ٹرمپ نے انٹرویو میں کہا کہ ان کے خیال میں مجتبیٰ خامنہ ای ہلاک نہیں ہوئے۔ انہوں نے یہ امکان بھی ظاہر کیا کہ اگر وہ ہلاک ہوچکے ہوں تو ایرانی حکام ان کی زندگی کا تاثر برقرار رکھ سکتے ہیں۔ اس جملے میں خود امریکی صدر نے دو مختلف امکانات بیان کیے، اس لیے اسے کسی ثابت شدہ موت، باضابطہ اعلان یا حتمی طبی نتیجے کے طور پر پیش نہیں کیا جاسکتا۔
ایکسپریس اردو کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ایرانی حکام اہم معاملات میں اب بھی مجتبیٰ خامنہ ای سے مشاورت اور حتمی منظوری لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ امریکی صدر نے ایرانی مذاکرات کاروں کو زیادہ قابل اعتماد گروہ قرار دینے سے بھی گریز کیا اور کہا کہ اس معاملے میں مختلف امکانات موجود ہیں۔ یہ سیاسی رائے اور انٹیلی جنس نوعیت کا غیر ثابت شدہ دعویٰ ہے، نہ کہ کسی عدالت، اسپتال یا ایرانی ادارے کی تصدیق۔
انٹرویو میں جنگ کے نتائج اور امریکی مالی قوت پر بھی بات ہوئی۔ ٹرمپ نے امریکا کی مالی طاقت کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے اسے بڑی کامیابی کی طرف پیش رفت سے جوڑا۔ یہ ان کا سیاسی مؤقف ہے؛ رپورٹ میں اس دعوے کی پیمائش کے لیے کوئی الگ عسکری یا اقتصادی جائزہ فراہم نہیں کیا گیا۔
اسی تناظر میں امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے ایران کے خلاف پابندیاں سخت کرنے کی مہم کا ذکر بھی کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق واشنگٹن نے ان ممالک کو اقتصادی نتائج کی تنبیہ دی ہے جو ایران کے ساتھ تعلقات ختم کرنے سے انکار کریں۔ پابندیوں کی یہ پالیسی اور مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت سے متعلق دعویٰ دو الگ معاملات ہیں، البتہ دونوں امریکا ایران کشیدگی کے موجودہ ماحول کو ظاہر کرتے ہیں۔
اس خبر کا مصدقہ حصہ اتنا ہے کہ امریکی صدر نے مذکورہ انٹرویو میں یہ دعویٰ کیا۔ مجتبیٰ خامنہ ای کی موجودہ طبی حالت، مقام اور فیصلہ سازی میں کردار بدستور غیر واضح ہیں۔ کسی نئے ایرانی سرکاری بیان، قابل اعتماد طبی اطلاع یا متعدد آزاد ذرائع کی تصدیق آنے تک خبر کو اسی نسبت اور احتیاط کے ساتھ پڑھا جانا چاہیے۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




