ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں سے مشرق وسطیٰ میں امریکی انٹیلیجنس تنصیبات اور نگرانی کے آلات کو غیر معمولی نقصان پہنچنے کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔ دی نیشن نے این بی سی نیوز کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ نقصان سے واقف چار افراد نے عمارتوں اور خفیہ معلومات جمع کرنے کے لیے استعمال ہونے والے سازوسامان کے متاثر ہونے کی اطلاع دی۔
رپورٹ کے مطابق متاثرہ آلات امریکی سینٹرل انٹیلیجنس ایجنسی اور دیگر امریکی خفیہ اداروں کے زیرِ استعمال تھے۔ ذرائع نے نقصان کو امریکی انٹیلیجنس اداروں کے لیے اپنی نوعیت کا سب سے بڑا واقعہ قرار دیا اور کہا کہ مرمت یا متبادل سامان پر اربوں ڈالر خرچ ہوسکتے ہیں۔ دی نیشن کی خبر میں کسی ایک تنصیب کا نام، درست مقام، حتمی مالی تخمینہ یا امریکی حکومت کی مکمل تکنیکی رپورٹ شامل نہیں۔
یہ معلومات این بی سی کے نامعلوم ذرائع سے منسوب رپورٹ ہے، کسی عوامی نقصان کے آڈٹ یا سرکاری حتمی بیان کا متن نہیں۔ اسی لیے اربوں ڈالر اور بے مثال نقصان کے الفاظ کو رپورٹ شدہ دعوے کے طور پر بیان کرنا ضروری ہے، آزاد طور پر ثابت شدہ رقم یا نتیجے کے طور پر نہیں۔ حساس تنصیبات سے متعلق معلومات عموماً محدود ہوتی ہیں، لیکن اس عمومی حقیقت سے کسی مخصوص دعوے کی خودکار تصدیق نہیں ہوتی۔
دی نیشن نے علاقائی پس منظر میں لکھا کہ امریکا اور اسرائیل نے فروری میں ایران پر مشترکہ حملے کیے تھے، جس کے بعد تہران نے ان ملکوں میں امریکی اثاثوں کو نشانہ بنایا جہاں امریکی تنصیبات موجود تھیں۔ حملوں، اہداف اور نقصانات سے متعلق ہر فریق کے بیانات کو الگ الگ دعووں اور تصدیق شدہ نتائج میں تقسیم کرنا ضروری ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران اور امریکا نے جون کے وسط میں پاکستانی ثالثی کے تحت جنگ کے خاتمے اور دیرپا امن کی کوشش سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے، لیکن بعد میں اس کی شرائط اور آبنائے ہرمز سے گزرنے کے معاملے پر مذاکرات تعطل کا شکار ہوگئے۔ موجودہ نقصان کی رپورٹ مذاکرات کی صورتِ حال پر ایک نیا دعویٰ ضرور ہے، مگر اس سے کسی نئی فوجی کارروائی یا سفارتی فیصلے کی خودکار تصدیق نہیں ہوتی۔
خبر کا محفوظ خلاصہ یہ ہے کہ دی نیشن نے این بی سی کے چار باخبر ذرائع سے منسوب دعویٰ نقل کیا ہے۔ حتمی نقصان، مقامات اور اخراجات کی تصدیق کے لیے امریکی حکام کی تحریری تفصیل، بجٹ ریکارڈ یا آزاد تکنیکی شواہد درکار ہوں گے۔ اس وقت رپورٹ سے آگے بڑھ کر کسی مخصوص تنصیب، ہلاکت یا عملی صلاحیت کے خاتمے کا دعویٰ نہیں کیا جاسکتا۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




