واشنگٹن: امریکا میں مذہبی آزادی کی نگرانی کرنے والے دو جماعتی سرکاری کمیشن نے بھارتی تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ، یعنی آر ایس ایس، کے بعض ارکان اور ان بھارتی اہلکاروں کے خلاف ہدفی پابندیوں کی سفارش کی ہے جنہیں کمیشن مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں میں ملوث سمجھتا ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کے چیئرمین آصف محمود نے یہ مطالبہ آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کے دورۂ امریکا اور نیویارک میں ان کی متوقع تقریب کے تناظر میں کیا۔

آصف محمود کے بیان میں امریکی حکومت سے موہن بھاگوت کو جاری ویزا منسوخ کرنے پر بھی غور کرنے کو کہا گیا۔ یہ مطالبہ کمیشن کے سربراہ کا پالیسی مؤقف ہے، کسی امریکی عدالت کا حکم، وزارتِ خارجہ کی کارروائی یا نافذ شدہ پابندی نہیں۔ یو ایس سی آئی آر ایف امریکی حکومت کا دو جماعتی ادارہ ہے جو دنیا بھر میں مذہبی آزادی کی صورت حال کی نگرانی اور پالیسی سفارشات پیش کرتا ہے، لیکن اس کی سفارشات انتظامیہ کے لیے قانونی طور پر لازم نہیں ہوتیں۔

ڈان کے مطابق واشنگٹن نے کمیشن کی حالیہ سفارشات کے بعد اب تک ایسی پابندیاں نافذ نہیں کیں۔ اس لیے خبر کا موجودہ قابلِ تصدیق نکتہ سفارش اور اس کے اسباب ہیں، نہ کہ کسی پابندی کا عملی نفاذ۔ کسی ویزا کی منسوخی یا فرد کے خلاف مالی پابندی کے لیے متعلقہ امریکی ادارے کی الگ باضابطہ کارروائی درکار ہوگی۔

رپورٹ میں بھارتی وزارتِ خارجہ کا مؤقف بھی شامل ہے، جس نے کمیشن کے الزامات مسترد کرتے ہوئے اسے بھارت کے خلاف متعصب قرار دیا ہے۔ آر ایس ایس اپنے خلاف عدم برداشت کے الزامات سے اختلاف کرتی ہے اور خود کو ہندو مرکز تہذیبی و ثقافتی تحریک بتاتی ہے۔ بھارت کی بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت بھی مذہبی امتیاز کے الزام کی تردید کرتی ہے اور کہتی ہے کہ سبسڈی اور بجلی سمیت اس کی فلاحی پالیسیاں تمام شہریوں کو فائدہ پہنچاتی ہیں۔

دوسری جانب حقوقِ انسانی کے گروپ آر ایس ایس پر ایسی اکثریتی نظریاتی سیاست کو فروغ دینے کا الزام لگاتے ہیں جس سے اقلیتوں کے خلاف عدم برداشت بڑھتی ہے۔ اقوام متحدہ اور حقوق گروپوں نے نفرت انگیز تقاریر، مذہب سے منسلک شہریت قانون، مسلم ملکیتی املاک کی مسماری، مقبوضہ کشمیر کی خودمختاری ختم کرنے اور تبدیلیٔ مذہب سے متعلق قوانین پر تشویش ظاہر کی ہے۔ یہ نکات رپورٹ میں ان اداروں کے مؤقف کے طور پر بیان ہوئے ہیں اور ہر مخصوص الزام کی الگ قانونی حیثیت ہوسکتی ہے۔

موجودہ صورت حال میں درست فرق یہ ہے کہ امریکی کمیشن نے پابندیوں کی سفارش کی، بھارتی حکومت اور آر ایس ایس نے متعلقہ تنقید مسترد کی، اور امریکی انتظامیہ کی جانب سے نئی پابندی یا ویزا منسوخی کی تصدیق نہیں ہوئی۔ آئندہ پیش رفت کی تصدیق امریکی محکمہ خارجہ یا وزارتِ خزانہ کے باضابطہ اعلان سے ہوگی۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک