تہران: قطر کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی نے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے تہران میں ملاقات کی ہے جس میں علاقائی کشیدگی کم کرنے اور امریکا ایران سفارتی رابطے بحال کرنے کی کوششوں پر بات ہوئی۔ ڈان میں 28 اگست کو شائع ہونے والی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق یہ ملاقات جمعرات کو ہوئی اور قطر نے اسے مکالمے کے لیے حالات پیدا کرنے کی اپنی ثالثی کوششوں کا حصہ قرار دیا۔
قطر ماضی میں فریقین کے درمیان پس پردہ رابطے کا کردار ادا کرچکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق دوحہ نے جون میں ہونے والی جنگ بندی کے حصول میں براہ راست کردار ادا کیا تھا، جس کے نتیجے میں کچھ عرصے کے لیے لڑائی رکی۔ تازہ دورے میں قطری وزیراعظم، جو اپنے ملک کے وزیر خارجہ بھی ہیں، نے عباس عراقچی کے ساتھ خطے کی موجودہ صورتحال اور تناؤ کم کرنے کے ممکنہ راستوں کا جائزہ لیا۔
قطری وزارت خارجہ کے مطابق زیر بحث مرحلہ وار خاکے میں آبنائے ہرمز سے متعلق دو نکات شامل تھے: ایران اور عمان کے درمیان ایک عارضی مشترکہ بحری راہداری قائم کرنا اور آبی گزرگاہ سے بارودی سرنگیں صاف کرنے کے لیے مشترکہ منصوبہ شروع کرنا۔ یہ نکات ایک تجویز کے طور پر رپورٹ ہوئے ہیں۔ دستیاب معلومات میں کسی حتمی معاہدے، نفاذ کی تاریخ، بحری راستے کی مکمل حدود یا سرنگوں کی صفائی کے عملی طریقہ کار کا اعلان نہیں کیا گیا۔
ملاقات ایسے وقت ہوئی جب امریکا اور ایران مذاکرات کی موجودہ حیثیت پر مختلف مؤقف بیان کر رہے ہیں۔ وائٹ ہاؤس نے کہا کہ اس وقت باقاعدہ مذاکرات نہیں ہو رہے کیونکہ اس کے مطابق تہران بامعنی انداز میں بات چیت کے لیے سامنے نہیں آیا۔ ایران مسلسل کہتا رہا ہے کہ وہ مذاکرات کی میز سے نہیں اٹھا۔ دونوں بیانات متعلقہ فریقوں کے دعوے ہیں اور انہیں کسی متفقہ سفارتی پیش رفت کا ثبوت نہیں سمجھا جاسکتا۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکی پابندیوں کو معاشی جنگ قرار دیتے ہوئے قومی اتحاد پر زور دیا، جبکہ ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے پابندیوں کو مخالفانہ اقدام کہا۔ یہ سیاسی مؤقف ایرانی حکام سے منسوب ہیں۔ رپورٹ میں پابندیوں کے فوری معاشی اثرات کا کوئی نیا آزاد تخمینہ یا فریقین کے درمیان طے شدہ رعایتوں کی فہرست شامل نہیں۔
اس سے پہلے ایرانی پاسداران انقلاب نے کہا تھا کہ ایران اور عمان آبنائے ہرمز اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کی تقسیم کے طریقے پر متفق ہوگئے ہیں، لیکن ایک سینئر ایرانی ذریعے نے بعد میں بتایا کہ تفصیلات پر کام جاری ہے۔ اس فرق کی وجہ سے کسی مکمل ایران عمان سمجھوتے کا اعلان کرنا قبل از وقت ہوگا۔ قطری دورے کی اہمیت رابطے کا سلسلہ جاری رکھنے میں ہے، نہ کہ کسی حتمی نتیجے کے اعلان میں۔
تصدیق شدہ پیش رفت اتنی ہے کہ قطری وزیراعظم نے تہران میں ایرانی وزیر خارجہ سے ملاقات کی، مرحلہ وار بحری و سفارتی خاکے پر گفتگو ہوئی اور قطر نے کشیدگی کم کرنے کے لیے مکالمہ جاری رکھنے کی کوشش کی۔ آبنائے ہرمز کے راستے، سرنگوں کی صفائی یا امریکا ایران مذاکرات میں عملی پیش رفت کا فیصلہ آئندہ سرکاری اعلانات اور زمینی نفاذ سے ہوگا۔ — اردو ہیڈ لائنز ڈیسک




