اسلام آباد: ایک جوڈیشل مجسٹریٹ نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے مقدمے میں صحافی بلال غوری کے جسمانی ریمانڈ میں مزید دو روز کی توسیع کر دی ہے۔ غوری کو پہلے تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر این سی سی آئی اے کی تحویل میں دیا گیا تھا اور مدت مکمل ہونے پر جمعرات کو جوڈیشل مجسٹریٹ ملک امان کی عدالت میں پیش کیا گیا۔
این سی سی آئی اے نے مزید تفتیش کے لیے چھ روز کی اضافی تحویل مانگی، تاہم عدالت نے دو روز کا ریمانڈ منظور کرتے ہوئے صحافی کو 12 ستمبر کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا۔ مقدمہ 6 ستمبر کو انسداد الیکٹرانک جرائم ایکٹ، پیکا، کے تحت درج کیا گیا تھا اور اس میں غوری پر نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی کے قومی کوآرڈینیٹر کی حالیہ تقرری سے متعلق مبینہ طور پر غلط معلومات پر مشتمل مواد تیار اور شیئر کرنے کا الزام ہے۔
غوری کے وکیل عمران شفیق نے مزید جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ تفتیشی ادارہ موبائل فون اور لیپ ٹاپ سمیت مطلوبہ چیزیں پہلے ہی تحویل میں لے چکا ہے اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس تک بھی رسائی رکھتا ہے۔ وکیل نے سوال اٹھایا کہ جب ریکوری مکمل ہونے کا مؤقف سامنے آ چکا ہے تو مزید جسمانی تحویل کی ضرورت کس بنیاد پر ہے۔ انہوں نے استغاثہ سے یہ بھی واضح کرنے کا مطالبہ کیا کہ ان کے مؤکل سے منسوب بیان کو غلط ثابت کرنے کی بنیاد کیا ہے۔
بلال غوری نے بھی عدالت کو بتایا کہ ان کے اکاؤنٹس، موبائل فون اور لیپ ٹاپ تفتیشی ادارے کے پاس ہیں۔ تفتیشی افسر نے جواب میں کہا کہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر دو مرحلہ جاتی تصدیق فعال ہونے کی وجہ سے لاگ اِن میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد چھ روز کی درخواست کے مقابلے میں دو روز کی مزید تحویل دی۔
ایف آئی آر ریاست کی مدعیت میں این سی سی آئی اے کے ٹیکنیکل اسسٹنٹ محمد عمیر وارثی کے ذریعے پیکا کی دفعہ 20 اور 26-اے کے تحت درج کی گئی۔ مقدمے میں الزام لگایا گیا ہے کہ غوری نے نیکٹا کے قومی کوآرڈینیٹر کی تقرری کے عمل اور حالات سے متعلق ایسا مواد پھیلایا جو تفتیشی ادارے کے مطابق جھوٹا اور گمراہ کن تھا۔ یہ تمام نکات ایف آئی آر اور تفتیشی مؤقف پر مبنی الزامات ہیں؛ عدالت نے ابھی ان کے درست یا غلط ہونے پر حتمی فیصلہ نہیں دیا۔
غوری کے وکیل کے مطابق زیر بحث وی لاگ 5 ستمبر کو اپ لوڈ ہوا اور صحافی کو اسی رات گرفتار کیا گیا۔ اب 12 ستمبر کو اگلی پیشی پر تفتیشی پیش رفت اور مزید تحویل یا عدالتی ریمانڈ سے متعلق فیصلہ سامنے آ سکتا ہے۔ مقدمے میں جرم ثابت ہونے یا نہ ہونے کا حتمی تعین عدالتی کارروائی کے بعد ہی ہوگا۔




