کراچی: سندھ اسمبلی نے سندھ لوکل گورنمنٹ (ترمیمی) بل 2026 میں مجوزہ تبدیلیوں کا جائزہ لینے کے لیے 11 رکنی خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ اسپیکر نے بل کمیٹی کے سپرد کرتے ہوئے اسے ایک ہفتے میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔ مجوزہ قانون میں 2013 کے بلدیاتی قانون کی متعدد شقوں میں تبدیلی شامل ہے، جن میں بلدیاتی اداروں کی مدت ختم ہونے کے بعد بعض عہدے داروں کے عبوری کردار سے متعلق اہم تجویز بھی شامل ہے۔

رپورٹ کے مطابق بل میں تجویز کیا گیا ہے کہ مدت مکمل کرنے والے میئرز اور چیئرمینز کو اگلے بلدیاتی انتخابات تک ایڈمنسٹریٹر کے طور پر کام جاری رکھنے کی اجازت دی جا سکے۔ یہ شق ابھی قانون نہیں بنی اور خصوصی کمیٹی اس سمیت مجوزہ ترامیم کا جائزہ لے گی۔ کمیٹی میں حکمران پاکستان پیپلز پارٹی کے سات اور اپوزیشن جماعتوں کے چار ارکان شامل ہیں۔

پیپلز پارٹی کی جانب سے وزیر قانون و پارلیمانی امور ضیا الحسن لنجار، جمیل سومرو، جام خان شورو، قاسم سومرو، سلیم بلوچ، سمیتا افضل اور سعید غنی کمیٹی کا حصہ ہیں۔ ایم کیو ایم پاکستان سے افتخار عالم اور طحہٰ احمد، پاکستان تحریک انصاف سے محمد شبیر قریشی اور جماعت اسلامی سے محمد فاروق کو شامل کیا گیا ہے۔ اس ترکیب میں حکمران جماعت کو واضح اکثریت حاصل ہے، تاہم اپوزیشن کی تین جماعتوں کی نمائندگی بھی موجود ہے۔

مجوزہ ترامیم میں مقامی تنازعات کے تصفیے کے لیے ایک فورم اور مصالحت کاروں کے کردار سے متعلق شقیں بھی شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یونین کونسلوں کو اپنے علاقوں میں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے مسائل، بلڈنگ کنٹرول کی خلاف ورزیوں اور غیر قانونی تعمیرات کی نشاندہی کر کے متعلقہ حکام تک معلومات پہنچانے کی ذمہ داری دینے کی تجویز ہے۔ عوامی خدمات کے بنیادی ڈھانچے کے تفصیلی نقشوں کو متعلقہ دستاویزات میں شامل کرنے کی تجاویز بھی بل کا حصہ ہیں۔

اسی اجلاس میں سندھ موٹر وہیکل (ترمیمی) بل 2026 بھی منظور کیا گیا۔ صوبائی وزیر ایکسائز مکیش کمار چاؤلہ کے مطابق گاڑی شوروم میں موجود رہنے کی صورت میں رجسٹریشن میں تاخیر پر پہلے ایک ماہ بعد جرمانہ عائد ہوتا تھا، جبکہ ترمیم کے بعد چھ ماہ تک جرمانہ نہیں ہوگا۔

اجلاس میں کراچی میں پانی کی قلت اور کچرے کے مسائل بھی زیر بحث آئے۔ پارلیمانی سیکریٹری قاسم سومرو نے کہا کہ شہر میں پانی کی کمی کا مسئلہ کے فور منصوبے کی تکمیل تک مکمل طور پر حل نہیں ہو سکے گا۔ بلدیاتی قانون کی مجوزہ ترامیم پر حتمی فیصلہ خصوصی کمیٹی کی رپورٹ اور اسمبلی میں بعد کی قانون سازی کے بعد ہی ہوگا۔