لاہور: پاکستان تحریک انصاف کے زیر حراست رہنما حماد اظہر کی والدہ اور اہلیہ نے لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت سے رجوع کرتے ہوئے پولیس پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ خاندان کے افراد اور وکیل کو حماد اظہر سے ملاقات کی اجازت نہیں دے رہی۔ درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ متعلقہ حکام کو زیر حراست رہنما کی اپنے وکیل اور اہل خانہ سے ملاقات یقینی بنانے کا حکم دیا جائے۔

حماد اظہر کی والدہ عشرت اظہر اور اہلیہ مریم حماد نے وکیل ابوذر سلمان نیازی کے ذریعے مشترکہ درخواست دائر کی۔ درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ زیر حراست ملزم کو قانونی مشاورت اور خاندان تک رسائی کا حق حاصل ہے اور پولیس کی جانب سے مبینہ طور پر ملاقات روکنا قانون کے خلاف ہے۔ یہ الزامات درخواست گزاروں کے مؤقف پر مبنی ہیں اور عدالت نے ابھی ان پر حتمی فیصلہ نہیں دیا۔

حماد اظہر کو رواں ہفتے ایک انسداد دہشت گردی عدالت نے جناح ہاؤس پر 9 مئی کے حملے سے متعلق مقدمے میں 21 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق انہیں گزشتہ ہفتے ملتان میں گرفتار کیا گیا اور بعد میں لاہور پولیس کے حوالے کیا گیا۔ موجودہ درخواست جسمانی ریمانڈ کے دوران وکیل اور خاندان تک رسائی کے معاملے سے متعلق ہے، نہ کہ مقدمے میں جرم یا بے گناہی کے حتمی تعین سے۔

حماد اظہر کو 9 مئی کے مختلف مقدمات میں ٹرائل عدالتوں نے پہلے اشتہاری قرار دیا تھا۔ ایک مقدمے میں استغاثہ نے جنوری میں عدالت کو بتایا تھا کہ انہیں پیش ہونے کے متعدد مواقع دیے گئے لیکن وہ حاضر نہیں ہوئے اور گرفتاری سے بچنے کے لیے روپوش رہے۔ یہ استغاثہ کا مؤقف تھا اور مختلف مقدمات میں قانونی کارروائیاں الگ الگ مراحل سے گزرتی رہی ہیں۔

مارچ میں راولپنڈی کی ایک انسداد دہشت گردی عدالت نے جی ایچ کیو حملہ کیس میں حماد اظہر سمیت 47 پی ٹی آئی رہنماؤں کو 10 سال قید کی سزا سنائی تھی اور ہر ایک پر پانچ لاکھ روپے جرمانہ عائد کرنے کے ساتھ جائیداد ضبط کرنے کا حکم بھی دیا تھا۔ موجودہ لاہور درخواست کا تعلق، تاہم، ان سزاؤں کے میرٹس سے نہیں بلکہ زیر حراست شخص کی ملاقات اور قانونی رسائی کے حق سے ہے۔

انسداد دہشت گردی عدالت اب درخواست پر پولیس اور دیگر متعلقہ فریقوں کا مؤقف سننے کے بعد فیصلہ کر سکتی ہے کہ ملاقات کے لیے کیا انتظامات کیے جائیں۔ درخواست گزاروں نے کسی نئی فوجداری ذمہ داری کا تعین نہیں مانگا بلکہ زیر حراست رہنما کی اپنے وکیل اور خاندان سے رابطے کے لیے عدالتی مداخلت طلب کی ہے۔