اسلام آباد: ایک جوڈیشل مجسٹریٹ نے 7 ستمبر کو صحافی بلال غوری کو پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) کے تحت درج مقدمے میں تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے حوالے کر دیا۔ ایجنسی نے عدالت سے 10 روزہ ریمانڈ مانگا تھا، تاہم جج ملک امان نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد تین دن کی تحویل منظور کی۔

ڈان کے مطابق مقدمہ 6 ستمبر کو این سی سی آئی اے کے ٹیکنیکل اسسٹنٹ محمد عمیر وارثی کی مدعیت میں درج کیا گیا۔ ایف آئی آر میں پیکا کی دفعہ 20، جو کسی فرد کے وقار سے متعلق جرائم سے متعلق ہے، اور دفعہ 26-اے، جو مبینہ جھوٹی یا جعلی معلومات کی ترسیل سے متعلق ہے، شامل کی گئیں۔ مقدمے میں الزام ہے کہ بلال غوری نے 5 ستمبر کو نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کے قومی رابطہ کار کی تقرری سے متعلق مواد سوشل میڈیا پر شائع کیا۔

ایف آئی آر اور این سی سی آئی اے کی ابتدائی انکوائری کے مطابق غوری کے مواد میں تقرری کے طریقہ کار اور حالات سے متعلق ایسے دعوے اور الزامات شامل تھے جنہیں ایجنسی نے جھوٹا، گمراہ کن اور آزادانہ تصدیق سے محروم قرار دیا۔ یہ الزامات تفتیشی ادارے کا مؤقف ہیں اور ابھی کسی عدالت میں ثابت شدہ حقائق نہیں۔

بلال غوری کے وکیل ایڈووکیٹ عمران شفیق نے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ان کے موکل کو پیشگی نوٹس دیے بغیر گرفتار کیا گیا۔ انہوں نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ متعلقہ وی لاگ 5 ستمبر کو اپ لوڈ ہوا اور اسی رات گرفتاری عمل میں آئی۔ دفاع کے مطابق وی لاگ میں ایسی کوئی بات نہیں جسے جھوٹا یا من گھڑت قرار دیا جا سکے، اور غوری نے کسی فرد کے بجائے نیکٹا اور ادارے کی کارکردگی پر گفتگو کی تھی۔

دفاع نے یہ بھی کہا کہ غوری نے مبینہ طور پر متعلقہ حکام کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مندرجات بیان کیے تھے۔ وکیل نے استغاثہ سے مطالبہ کیا کہ وہ واضح کرے کہ وی لاگ میں کون سا مخصوص جملہ یا دعویٰ جھوٹا تھا۔ عدالت نے دونوں جانب کے دلائل سننے کے بعد این سی سی آئی اے کی 10 روزہ تحویل کی درخواست مکمل طور پر منظور نہیں کی اور تین روزہ جسمانی ریمانڈ دیا۔

جسمانی ریمانڈ کا مقصد تفتیشی ادارے کو محدود مدت میں پوچھ گچھ اور متعلقہ شواہد جمع کرنے کا موقع دینا ہوتا ہے۔ یہ کسی جرم کے ثابت ہونے کے مترادف نہیں۔ بلال غوری کو مقدمے میں اپنے دفاع، وکیل کی معاونت اور عدالتی نگرانی کے حقوق حاصل ہیں، جبکہ این سی سی آئی اے کو اپنے الزامات کی قانونی بنیاد اور ثبوت عدالت کے سامنے پیش کرنا ہوں گے۔

یہ مقدمہ پاکستان میں ڈیجیٹل اظہار، صحافتی آزادی اور پیکا کے نفاذ سے متعلق جاری بحث کے تناظر میں اہم ہے۔ آئندہ سماعتوں میں عدالت اس بات کا جائزہ لے گی کہ تفتیش میں کیا پیش رفت ہوئی، کن شواہد پر الزام قائم ہے اور آیا مزید تحویل یا کسی دوسرے قانونی حکم کی ضرورت بنتی ہے۔