لاہور: انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر حماد اظہر کو 9 مئی 2023 کے جناح ہاؤس حملہ کیس میں 21 روزہ جسمانی ریمانڈ پر لاہور پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق سرور روڈ پولیس نے 7 ستمبر کو انہیں سخت سکیورٹی میں عدالت کے سامنے پیش کیا اور تفتیش کے لیے طویل جسمانی تحویل کی درخواست کی۔

عدالت نے تفتیشی افسر کی جانب سے 60 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا مکمل طور پر منظور نہیں کی اور 21 روز کی تحویل دی۔ عدالت نے پولیس کو ہدایت کی کہ زیر حراست ملزم کے ساتھ قانون کے مطابق مناسب برتاؤ کیا جائے۔ جسمانی ریمانڈ کسی شخص کے خلاف جرم ثابت ہونے کا فیصلہ نہیں ہوتا بلکہ تفتیش کے لیے عدالتی اجازت ہوتی ہے؛ کیس میں الزامات کا حتمی تعین عدالتی کارروائی اور ثبوت کی جانچ کے بعد ہوگا۔

حماد اظہر کے خلاف مقدمہ 9 مئی کے ہنگاموں کے دوران لاہور میں جناح ہاؤس پر حملے اور توڑ پھوڑ سے متعلق ہے۔ پولیس ان سے مقدمے کے مختلف پہلوؤں پر تفتیش کرنا چاہتی ہے۔ پی ٹی آئی اور خود حماد اظہر ماضی میں 9 مئی سے متعلق مقدمات اور حکومتی کارروائیوں کو سیاسی انتقام قرار دیتے رہے ہیں، جبکہ ریاستی اداروں کا مؤقف ہے کہ تشدد، جلاؤ گھیراؤ اور سرکاری یا فوجی تنصیبات پر حملوں کے مقدمات قانون کے مطابق چلائے جا رہے ہیں۔ ان متضاد دعووں میں کسی بھی فریق کے سیاسی الزام کو عدالتی طور پر ثابت شدہ حقیقت نہیں سمجھا جا سکتا۔

عدالتی پیشی سے قبل حماد اظہر کی والدہ نے لاہور ہائیکورٹ میں حبس بے جا کی درخواست دائر کی تھی اور مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان کے بیٹے کو ہفتے کے روز گرفتار کیا گیا، مگر اہل خانہ کو ان کی تحویل کے مقام سے آگاہ نہیں کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اتوار کی رات تک لاہور اور ملتان پولیس کے حکام ان کی گرفتاری سے لاعلمی ظاہر کرتے رہے، تاہم پیر کو سرور روڈ پولیس نے انہیں انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کر دیا۔

یہ پیش رفت اس لیے بھی اہم ہے کہ 9 مئی کے مقدمات میں کئی سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف الگ الگ ایف آئی آرز، تفتیشیں اور عدالتی کارروائیاں جاری ہیں۔ ہر مقدمے میں الزامات، شواہد اور قانونی حیثیت الگ ہے، اس لیے حماد اظہر کے موجودہ ریمانڈ کو دوسرے مقدمات کے نتائج یا کسی مجموعی عدالتی فیصلے کے برابر نہیں سمجھا جا سکتا۔

اب پولیس کو 21 روزہ ریمانڈ کی مدت میں اپنی تفتیش آگے بڑھانا ہوگی اور مقررہ مدت کے بعد حماد اظہر کو دوبارہ متعلقہ عدالت کے سامنے پیش کرنا ہوگا، جہاں مزید ریمانڈ، عدالتی تحویل یا دیگر قانونی درخواستوں پر قانون کے مطابق فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔