کراچی: لانڈھی ایکسپورٹ پروسیسنگ زون میں پیر کو ایک فیکٹری میں شدید آگ بھڑک اٹھی جسے فائر بریگیڈ حکام نے تیسرے درجے کی آگ قرار دیا۔ کئی گھنٹوں تک جاری فائر فائٹنگ آپریشن کے دوران متاثرہ عمارت کا ایک حصہ منہدم ہو گیا اور آگ قریبی صنعتی یونٹ تک بھی پھیلنے کی اطلاع ملی۔

ریسکیو 1122 اور کراچی کے فائر بریگیڈ حکام کے مطابق آگ فیکٹری کے نچلے حصے سے شروع ہوئی اور تیزی سے بالائی منزلوں تک پھیل گئی۔ عمارت میں بڑی مقدار میں پرانے کپڑے اور قابلِ اشتعال سامان موجود ہونے کی وجہ سے شعلوں اور دھویں کی شدت بڑھی۔ صورتحال کے پیش نظر فائر ٹینڈرز، اسنارکلز، واٹر باؤزرز اور ایمبولینسیں موقع پر بھیجی گئیں، جبکہ پولیس اور سندھ رینجرز نے بھی ریسکیو اور علاقے کو محفوظ رکھنے کے عمل میں معاونت کی۔

معتبر پاکستانی خبر رساں اداروں کے مطابق عمارت میں موجود کارکنوں کو نکال لیا گیا اور فوری طور پر کسی ہلاکت کی تصدیق نہیں ہوئی۔ تاہم تین افراد دھویں کے باعث متاثر ہوئے۔ بعض رپورٹوں میں بتایا گیا کہ ان میں سے ایک خاتون کو طبی امداد کیلئے اسپتال منتقل کیا گیا۔ حادثے کے دوران عمارت کا ایک حصہ گرنے کے بعد فائر بریگیڈ نے ڈھانچے کو خطرناک قرار دیا اور عملے کو اندر داخل ہونے کے بجائے زیادہ تر کارروائی باہر سے جاری رکھنی پڑی۔

فائر بریگیڈ کی اضافی گاڑیاں شہر کے مختلف حصوں سے طلب کی گئیں کیونکہ آگ کی شدت ابتدائی وسائل سے زیادہ تھی۔ مختلف اوقات میں جاری ہونے والی رپورٹوں میں فائر ٹینڈرز کی تعداد میں فرق بتایا گیا، جو آپریشن کے دوران اضافی نفری اور گاڑیوں کی مرحلہ وار آمد کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔ اس لیے اس رپورٹ میں کسی ایک حتمی تعداد کو قطعی نہیں قرار دیا جا رہا۔

سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے آگ کی نوعیت، نقصان اور ریسکیو آپریشن کی تفصیلات طلب کیں۔ آگ سے مالی نقصان کے ابتدائی اندازے سامنے آئے، تاہم کسی قابل اعتماد سرکاری ذریعے نے فوری طور پر مجموعی نقصان کی حتمی مالیت جاری نہیں کی۔ اسی طرح آگ لگنے کی بنیادی وجہ بھی ابتدائی مرحلے میں طے نہیں کی گئی تھی۔

لانڈھی ایکسپورٹ پروسیسنگ زون کراچی کا ایک اہم صنعتی علاقہ ہے جہاں متعدد برآمدی اور مینوفیکچرنگ یونٹس قائم ہیں۔ بڑے صنعتی مراکز میں آگ لگنے کے واقعات کے بعد عمارتوں کی فائر سیفٹی، ایمرجنسی اخراج، فائر الارم، پانی کی دستیابی اور حفاظتی معیارات پر سوالات دوبارہ سامنے آتے ہیں۔ تاہم اس خاص واقعے میں کسی ضابطہ خلاف ورزی یا ذمہ داری کا تعین تحقیقات سے پہلے نہیں کیا جا سکتا۔

واقعے کی اہم پیش رفت یہ رہی کہ بڑی سطح کے ریسکیو آپریشن کے باوجود کارکنوں کے انخلا کی اطلاع ملی اور فوری طور پر جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی، جبکہ عمارت کے منہدم ہونے اور آگ کے ملحقہ یونٹ تک پھیلنے نے خطرے کی شدت واضح کی۔ آگ پر مکمل قابو، وجوہات اور مالی نقصان سے متعلق حتمی معلومات متعلقہ اداروں کی بعد کی رپورٹوں سے واضح ہوں گی۔