اسلام آباد: وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے آئندہ سربراہی اجلاس کے سکیورٹی انتظامات کیلئے 30 بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری کی خاطر 6.6 ارب روپے کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری دے دی ہے۔ اجلاس وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت ہوا۔

وزارت خزانہ سے منسوب سرکاری بیان کے مطابق کابینہ ڈویژن نے ابتدا میں 12.6 ارب روپے کی گرانٹ کی درخواست پیش کی تھی۔ ای سی سی نے تجویز پر غور کے بعد 6.6 ارب روپے منظور کیے اور واضح کیا کہ اگر مزید گاڑیوں یا اضافی مالی وسائل کی ضرورت ہو تو کابینہ ڈویژن پہلے ضرورت کا جامع تجزیہ کرے اور پھر معاملہ دوبارہ کمیٹی کے سامنے لائے۔

منظور شدہ رقم 30 بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری پر خرچ کی جائے گی جنہیں ایس سی او کے سربراہانِ مملکت کے اجلاس کے دوران اعلیٰ سطحی غیر ملکی وفود کی آمد و رفت اور سکیورٹی انتظامات کیلئے استعمال کیا جانا ہے۔ پاکستان نے حالیہ ایس سی او سربراہی اجلاس کے بعد کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کی گردشی صدارت سنبھالی ہے اور اگلا سربراہی اجلاس ستمبر 2027 میں پاکستان میں منعقد ہونا ہے۔

ای سی سی کے اجلاس میں اس کے علاوہ بھی متعدد اقتصادی و انتظامی امور زیر غور آئے۔ دستیاب تفصیلات کے مطابق تمباکو کی کم از کم اشاریہ قیمتوں اور سیس کی شرح میں تبدیلی سے متعلق تجویز کو مزید جواز اور تجزیے کیلئے مؤخر کر دیا گیا۔ کمیٹی نے گوادر فری زون سے گدھے کے گوشت اور کھالوں کی برآمد سے متعلق سفارشات کو مقررہ حفاظتی شرائط کے ساتھ منظور کیا، جبکہ فاطمہ فرٹیلائزر اور ایگری ٹیک کو موجودہ انتظام کے تحت 30 ستمبر 2026 تک گیس کی فراہمی جاری رکھنے کی بھی منظوری دی گئی۔

اجلاس میں دانش اسکولز اتھارٹی فنڈ کیلئے 5 ارب روپے کی سیڈ منی کو اینڈومنٹ فریم ورک کے تحت رکھنے کی منظوری بھی دی گئی۔ پاکستان اسکلز امپیکٹ بانڈ پر پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ وزارت کو 30 ستمبر تک قابلِ ذکر پیش رفت رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی۔

بلٹ پروف گاڑیوں کے معاملے میں اہم نکتہ یہ ہے کہ ای سی سی نے کابینہ ڈویژن کی پوری 12.6 ارب روپے کی ابتدائی درخواست منظور نہیں کی بلکہ پہلے مرحلے میں 6.6 ارب روپے کی منظوری دی۔ اس لیے مزید مالی ضرورت، اگر پیدا ہوتی ہے، الگ جانچ اور دوبارہ منظوری سے مشروط ہوگی۔