اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں انجینئرنگ اور تکنیکی عملے کی کمی فوری طور پر دور کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اقدام پمز کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ سینٹر میں حالیہ آتشزدگی کے بعد اسپتال کے تکنیکی نظام، سہولیات اور حفاظتی انتظامات کے جائزے کے سلسلے میں کیا گیا ہے۔

وزارت قومی صحت کے مطابق وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کی زیر صدارت اجلاس میں پمز انتظامیہ، کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ سینٹر کے ہیٹنگ، وینٹی لیشن اور ایئر کنڈیشننگ، یعنی ایچ وی اے سی نظام کی موجودہ حالت پر بریفنگ دی گئی۔ حکام نے بتایا کہ متاثرہ عمارت تحقیقات کے باعث عارضی طور پر بند ہونے سے بحالی کے کام میں رکاوٹ آئی ہے۔

وزیر صحت نے سیکریٹری صحت کو ہدایت کی کہ متعلقہ اداروں سے فوری رابطہ کرکے متاثرہ عمارت کی حوالگی اور مرمت کے آغاز کیلئے واضح ٹائم لائن طے کی جائے۔ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ ہوا کہ تحلیل کیے گئے پاکستان پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ کے بعد بننے والے سرپلس پول سے موزوں انجینئرز، ٹیکنیکل ماہرین اور دیگر متعلقہ عملے کو پمز میں تعینات کرنے کیلئے وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے رابطہ کیا جائے۔

وزارت صحت کے مطابق تکنیکی افرادی قوت کو مضبوط بنانا مریضوں، بالخصوص نومولود بچوں، کیلئے محفوظ اور بلا تعطل طبی خدمات یقینی بنانے کیلئے ضروری قرار دیا گیا ہے۔ حالیہ آتشزدگی میں 14 شیر خوار بچوں کی ہلاکت کے بعد حکومت نے تکنیکی خامیوں کے ازالے اور ذمہ داری کے تعین کیلئے اقدامات کا اعلان کیا تھا۔ اس واقعے سے متعلق تحقیقات اور احتسابی عمل اپنی الگ قانونی و انتظامی نوعیت رکھتے ہیں، اس لیے اس رپورٹ میں کسی فرد یا ادارے کو تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے ذمہ دار قرار نہیں دیا جا رہا۔

دوسری جانب اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی نے پمز کی سہولیات اور خدمات کا جامع جائزہ شروع کر دیا ہے۔ وزارت صحت کے مطابق آئی ایچ آر اے کے تکنیکی ماہرین کلینیکل، سرجیکل، میڈیکل، ریڈیالوجی اور انتظامی شعبوں کا مقررہ معیارات اور مختلف کارکردگی اشاریوں کی بنیاد پر جائزہ لے رہے ہیں۔

ریگولیٹری جائزے کے بعد اسپتال کی کارکردگی بہتر بنانے، خدمات کے معیار میں اضافہ اور سہولیات کو جدید بنانے کیلئے سفارشات تیار کی جائیں گی۔ اس عمل میں طبی خدمات کے ساتھ ساتھ تکنیکی نظام، مینٹیننس، انفراسٹرکچر اور انتظامی طریقہ کار بھی اہم ہوں گے کیونکہ بڑے سرکاری اسپتالوں میں بجلی، وینٹی لیشن، آکسیجن، فائر سیفٹی اور دیگر بنیادی نظام براہ راست مریضوں کی حفاظت سے جڑے ہوتے ہیں۔

موجودہ فیصلے کا مرکزی نکتہ فوری بھرتی یا مستقل نئی اسامیاں تخلیق کرنے کا حتمی اعلان نہیں بلکہ دستیاب سرکاری افرادی قوت میں سے موزوں انجینئرز اور ماہرین کو پمز کی ضروریات کیلئے استعمال کرنے اور متعلقہ وزارتوں کے درمیان انتظامی عمل تیز کرنے کی ہدایت ہے۔ اس کے ساتھ آئی ایچ آر اے کی رپورٹ آئندہ اصلاحات اور ممکنہ تکنیکی اپ گریڈیشن کیلئے بنیاد فراہم کر سکتی ہے۔