اسلام آباد: جماعت اسلامی نے پٹرولیم لیوی اور ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کے مسئلے پر وفاقی حکومت کے ساتھ مذاکرات میں چھ تجاویز پیش کی ہیں اور کہا ہے کہ بات چیت جاری رہنے کے باوجود اس کا احتجاجی پروگرام بھی جاری رہے گا۔ جیو نیوز کے مطابق پیر کو اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں حکومتی وفد اور جماعت اسلامی کے نمائندوں نے پٹرولیم لیوی، ایندھن کی قیمتوں اور عوام پر بڑھتے مالی بوجھ سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔

رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ حکومت جماعت اسلامی کی قابل عمل تجاویز پر غور کرے گی۔ حکومتی وفد نے پیش کردہ چھ نکات کا جائزہ لینے کے لیے تین دن کی مہلت مانگی، جس کے بعد فریقین کے درمیان اگلا دور جمعرات کو متوقع ہے۔ جماعت اسلامی نے مؤقف اختیار کیا کہ بجلی، گیس اور ایندھن کے اخراجات میں اضافے سے گھریلو بجٹ پر دباؤ بڑھا ہے اور پٹرولیم لیوی سے متعلق پالیسی پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔

جماعت اسلامی نے واضح کیا کہ مذاکرات میں شرکت کا مطلب احتجاج معطل کرنا نہیں ہے۔ پارٹی کے مطابق حکومت کے ساتھ رابطہ برقرار رکھا جائے گا، تاہم عوامی دباؤ برقرار رکھنے کے لیے احتجاجی سرگرمیاں بھی جاری رہیں گی۔ یہ مؤقف ظاہر کرتا ہے کہ جماعت اسلامی اس مرحلے پر حکومت کے وعدوں کے بجائے تجاویز پر عملی پیش رفت دیکھنا چاہتی ہے۔

جیو نیوز کی رپورٹ میں چھ تجاویز کی مکمل تفصیل ایک ایک کرکے بیان نہیں کی گئی، اس لیے ان کے ایسے نکات منسوب کرنا درست نہیں ہوگا جن کی تصدیق دستیاب رپورٹ سے نہ ہو۔ البتہ مذاکرات کا مرکزی موضوع پٹرولیم لیوی اور بڑھتی ایندھن قیمتیں تھیں، جبکہ حکومت نے تجاویز کے قابل عمل ہونے کا جائزہ لینے کا عندیہ دیا ہے۔ کسی حتمی معاہدے، لیوی میں فوری کمی یا نئی قیمتوں کے نفاذ کا اعلان اس ملاقات میں نہیں ہوا۔

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں پاکستان میں مہنگائی، ٹرانسپورٹ لاگت اور اشیائے ضروریہ کے اخراجات پر براہ راست اثر ڈالتی ہیں، اس لیے لیوی اور ٹیکس سے متعلق فیصلے سیاسی اور معاشی دونوں لحاظ سے اہم ہوتے ہیں۔ حکومت کو ایک طرف مالی ضروریات اور محصولات کا دباؤ درپیش ہے، جبکہ اپوزیشن اور مذہبی سیاسی جماعتیں قیمتوں میں کمی کے لیے عوامی دباؤ بڑھا رہی ہیں۔

اب توجہ جمعرات کے متوقع مذاکرات پر ہوگی، جہاں یہ واضح ہوسکتا ہے کہ حکومت جماعت اسلامی کی چھ تجاویز میں سے کن نکات کو قابل عمل سمجھتی ہے۔ اس وقت تک کسی رعایت یا پالیسی تبدیلی کو حتمی نہیں سمجھا جاسکتا، اور فریقین کے بیانات مذاکراتی پوزیشن کی نمائندگی کرتے ہیں۔