لاہور: انسداد دہشت گردی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما حماد اظہر کو 9 مئی کے واقعات سے متعلق جناح ہاؤس حملہ کیس میں 21 روزہ جسمانی ریمانڈ پر لاہور پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔ عدالت نے پولیس کی تحویل کی درخواست پر سماعت کے بعد حکم جاری کیا، جبکہ تفتیشی افسر کی 60 روزہ ریمانڈ کی استدعا مکمل طور پر منظور نہیں کی گئی۔
ڈان کے مطابق سرور روڈ پولیس نے حماد اظہر کو سخت سکیورٹی میں عدالت کے سامنے پیش کیا۔ مقدمہ ان واقعات سے متعلق ہے جو 9 مئی کو جناح ہاؤس لاہور پر حملے اور توڑ پھوڑ کے دوران پیش آئے تھے۔ حماد اظہر پر عائد الزامات ابھی عدالتی طور پر ثابت نہیں ہوئے اور جسمانی ریمانڈ کا مقصد پولیس کو مزید تفتیش کی اجازت دینا ہے۔
عدالتی کارروائی سے قبل حماد اظہر کی والدہ نے لاہور ہائی کورٹ میں حبسِ بے جا کی درخواست دائر کی تھی اور مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان کے بیٹے کو ہفتے کے روز گرفتار کیا گیا، تاہم اتوار رات تک لاہور اور ملتان پولیس کے حکام ان کی گرفتاری سے لاعلمی ظاہر کرتے رہے۔ پیر کو انہیں باضابطہ طور پر انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کر دیا گیا۔
تفتیشی افسر نے عدالت سے طویل جسمانی ریمانڈ کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ مقدمے کی تفتیش کے لیے ملزم سے پوچھ گچھ اور دیگر شواہد سے تقابل ضروری ہے۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد 21 روزہ ریمانڈ منظور کیا اور پولیس کو ہدایت کی کہ ملزم کے ساتھ قانون کے مطابق مناسب سلوک کیا جائے۔
حماد اظہر طویل عرصے سے 9 مئی سے متعلق مختلف مقدمات میں مطلوب رہے ہیں اور ان کی گرفتاری کے حوالے سے پاکستان تحریک انصاف نے سیاسی ردعمل بھی دیا۔ تاہم موجودہ عدالتی حکم خاص طور پر جناح ہاؤس حملہ کیس میں پولیس کی تحویل سے متعلق ہے۔ کسی بھی ملزم کا جسمانی ریمانڈ سزا یا جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں ہوتا، بلکہ یہ فوجداری تفتیش کا ایک مرحلہ ہے جس کے بعد ملزم کو دوبارہ عدالت میں پیش کرنا ہوتا ہے۔
عدالت میں آئندہ پیشی پر تفتیشی ادارہ اپنی پیش رفت اور ریمانڈ کے دوران حاصل ہونے والے مواد سے عدالت کو آگاہ کرے گا۔ استغاثہ کو مقدمے میں اپنے الزامات شواہد کے ذریعے ثابت کرنا ہوں گے جبکہ دفاع کو ان الزامات کو چیلنج کرنے اور قانونی اعتراضات اٹھانے کا حق حاصل رہے گا۔ کیس کی حتمی ذمہ داری اور نتیجہ مکمل عدالتی عمل کے بعد ہی متعین ہوگا۔




