اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے تیزاب حملوں کے خلاف سزا سخت کرنے کے لیے فوجداری قانون میں ترمیم کا ایک اہم بل منظور کر لیا ہے۔ مجوزہ قانون میں تیزاب یا کسی دوسرے زہریلے اور جلانے والے مادے سے کسی شخص کو شدید نقصان پہنچانے کے جرم پر سزائے موت، عمر قید یا کم از کم 14 سال قید کے ساتھ 20 لاکھ روپے جرمانے کی سزا تجویز کی گئی ہے۔
کمیٹی کا اجلاس سینیٹر فیصل سلیم رحمان کی صدارت میں ہوا، جس میں متعدد نجی اراکین کے بل زیر غور آئے۔ ان میں تیزاب گردی کے خلاف قانون کے علاوہ گھریلو ملازمین کے تحفظ، ایل پی جی سیفٹی، انسدادِ زیادتی قوانین اور صارفین کے تحفظ سے متعلق تجاویز بھی شامل تھیں۔ تیزاب حملوں سے متعلق فوجداری قانون ترمیمی بل سینیٹر محمد عبدالقادر نے پیش کیا تھا اور اس کا مقصد پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 336 بی میں تبدیلی کرنا ہے۔
بل کے اغراض و مقاصد میں کوئٹہ میں ایک خاتون ڈاکٹر پر حالیہ تیزاب حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ 2011 میں قانون میں ترمیم کے باوجود ایسے واقعات مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکے۔ بل کے مطابق تیزاب حملے متاثرہ فرد کو مستقل جسمانی بدشکلی، نفسیاتی صدمے اور طویل المدت سماجی و معاشی مشکلات سے دوچار کر سکتے ہیں، اس لیے سزا کو زیادہ مؤثر اور بازدار بنانے کی ضرورت ہے۔
کمیٹی نے بل کی منظوری اس وقت دی جب وزارت داخلہ کی جانب سے مخالفت سامنے آئی۔ رپورٹ کے مطابق وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بعض تجاویز پر اعتراض کیا، تاہم پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین سمیت کمیٹی کی اکثریت نے بل کے حق میں ووٹ دیا۔ بل کی منظوری ابھی قانون بننے کے مترادف نہیں؛ اسے قانون سازی کے مکمل پارلیمانی عمل سے گزرنا ہوگا اور متعلقہ ایوان یا ایوانوں کی منظوری کے بعد ہی نافذ کیا جا سکے گا۔
اجلاس میں گھریلو ملازمین کے ساتھ بدسلوکی کو الگ جرم کے طور پر واضح کرنے سے متعلق ایک اور فوجداری قانون ترمیمی بل بھی متفقہ طور پر منظور کیا گیا۔ اس مجوزہ قانون میں جسمانی تشدد، جنسی ہراسانی، جبری مشقت، اجرت روکنے، شناختی دستاویزات ضبط کرنے، خوراک یا طبی سہولت سے محروم رکھنے اور ذلت آمیز سلوک جیسے افعال کو شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
تیزاب حملوں کے خلاف موجودہ قانون میں پہلے ہی سخت سزائیں موجود ہیں، تاہم نئی ترمیم کا مقصد سزا کی حد مزید بڑھانا اور ایسے جرائم کے لیے زیادہ واضح قانونی بازدار اثر پیدا کرنا ہے۔ انسانی حقوق کے حلقے طویل عرصے سے تیزاب حملوں کے مقدمات میں تیز تر تحقیقات، متاثرین کی طبی و نفسیاتی بحالی اور سزا کے مؤثر نفاذ پر زور دیتے رہے ہیں۔ اب اس بل کی اگلی پیش رفت پارلیمانی قانون سازی کے مراحل میں طے ہوگی۔




