اسلام آباد: پاکستان نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی حیثیت سے متعلق بھارت کے تازہ دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئی دہلی کے یکطرفہ سرکاری نقشے یا خودمختاری کے دعوے اس علاقے کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع حیثیت پر کوئی اثر نہیں ڈالتے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے کہا کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے قدیم ترین حل طلب تنازعات میں شامل ہے۔
پاکستانی ردعمل ایک ایسے پس منظر میں سامنے آیا جب اقوام متحدہ میں ایک نئی نقشہ جاتی پروجیکشن کے استعمال سے متعلق قرارداد منظور کی گئی۔ بھارت نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، تاہم بعد ازاں بھارتی وزارت خارجہ نے کہا کہ قرارداد کسی مخصوص نقشے یا سرحدی خاکے کی توثیق نہیں کرتی اور بھارت کے مطابق اس کا علاقہ، جس میں جموں و کشمیر اور لداخ بھی شامل ہیں، اس کے سرکاری نقشے کے مطابق دکھایا جانا چاہیے۔
دفتر خارجہ نے اس بھارتی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کی حتمی حیثیت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی آزادانہ رائے کے مطابق طے ہونا باقی ہے۔ ترجمان کے مطابق اقوام متحدہ کے سرکاری نقشے جموں و کشمیر کو متنازع خطہ ظاہر کرتے ہیں اور پاکستان اسی قانونی و سفارتی مؤقف کو بنیاد بناتا ہے۔
سجاد حیدر خان نے کہا کہ بھارت کے یکطرفہ اقدامات اور خطے پر اس کا انتظامی کنٹرول عالمی سطح پر تسلیم شدہ تنازع کی نوعیت تبدیل نہیں کر سکتا۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر توجہ دی جائے اور کشمیری عوام کے حق خود ارادیت سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کے لیے کردار ادا کیا جائے۔
اقوام متحدہ میں زیر بحث نقشہ جاتی قرارداد دراصل Equal Earth cartographic projection کے استعمال کو فروغ دینے سے متعلق تھی، جس کا مقصد دنیا کے براعظموں اور زمینی رقبوں کو مرکیٹر پروجیکشن کے مقابلے میں زیادہ متناسب انداز میں دکھانا ہے۔ قرارداد نے رکن ممالک کو اس پروجیکشن کو ایک بہتر نقشہ جاتی متبادل کے طور پر اپنانے کی ترغیب دی، تاہم اس نے کسی مخصوص ریاستی سرحد یا علاقائی دعوے کا فیصلہ نہیں کیا۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر کئی دہائیوں سے بنیادی تنازع ہے اور دونوں ممالک اس کی قانونی و سیاسی حیثیت پر متضاد مؤقف رکھتے ہیں۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ مسئلے کا حل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے، جبکہ بھارت پورے جموں و کشمیر کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے۔ تازہ بیان اسی دیرینہ سفارتی اختلاف کا تسلسل ہے، نہ کہ کسی نئی بین الاقوامی عدالتی یا اقوام متحدہ کی حتمی حیثیتی تبدیلی کا اعلان۔




