کراچی: لانڈھی ایکسپورٹ پروسیسنگ زون میں استعمال شدہ کپڑوں کی ایک فیکٹری میں لگنے والی شدید آگ کئی گھنٹے تک جاری رہی، جس کے دوران عمارت کا ایک حصہ منہدم ہوگیا اور آگ ایک ملحقہ فیکٹری تک بھی پھیل گئی۔ جیو نیوز کے مطابق آتشزدگی پیر کی دوپہر شروع ہوئی اور رات تک آگ بجھانے کی کارروائی جاری تھی۔ ریسکیو حکام نے واقعے کو بڑے پیمانے کی آتشزدگی قرار دیا اور متعدد فائر ٹینڈرز، اسنارکلز اور واٹر باؤزر موقع پر تعینات کیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق ریسکیو 1122 نے بتایا کہ آگ کے باعث فیکٹری کا تقریباً نصف حصہ متاثر ہوا، جبکہ شعلوں نے قریب واقع ایک اور صنعتی یونٹ کو بھی لپیٹ میں لے لیا۔ آگ کی شدت اور عمارت کے حصے کے گرنے کے باعث فائر فائٹنگ آپریشن کو محتاط انداز میں جاری رکھا گیا۔ امدادی اداروں نے صنعتی علاقے میں پانی کی مسلسل فراہمی اور بلند مقامات تک رسائی کے لیے اسنارکلز استعمال کیے۔
جیو نیوز نے ریسکیو حکام کے حوالے سے بتایا کہ مجموعی طور پر 16 فائر ٹینڈرز، دو اسنارکلز اور ایک واٹر باؤزر کارروائی میں شامل تھے۔ واقعے کے وقت بنیادی توجہ آگ کو مزید فیکٹریوں تک پھیلنے سے روکنے اور متاثرہ عمارت کے اندرونی حصوں تک رسائی حاصل کرنے پر مرکوز رہی۔ آتشزدگی کے کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود بعض حصوں میں شعلے اور دھواں برقرار رہنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
ابتدائی رپورٹ میں آگ لگنے کی حتمی وجہ کی تصدیق نہیں کی گئی، اس لیے کسی تکنیکی خرابی، انسانی غفلت یا دوسرے سبب کو ذمہ دار قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ اسی طرح دستیاب رپورٹ میں کسی جانی نقصان کی حتمی تعداد بھی بیان نہیں کی گئی۔ حکام کی جانب سے مکمل کولنگ اور جائے وقوعہ کے معائنے کے بعد ہی نقصان کے حجم اور آگ کے ممکنہ سبب کے بارے میں مزید واضح معلومات سامنے آسکیں گی۔
لانڈھی ایکسپورٹ پروسیسنگ زون کراچی کے اہم صنعتی علاقوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں کسی بڑی آتشزدگی کے باعث نہ صرف متعلقہ یونٹ بلکہ اطراف کی فیکٹریاں بھی خطرے میں آسکتی ہیں۔ اس واقعے نے ایک بار پھر صنعتی عمارتوں میں فائر سیفٹی، ہنگامی اخراج، پانی کی دستیابی اور فائر بریگیڈ کی فوری رسائی کی اہمیت کو نمایاں کیا ہے۔ فی الحال حکام کی ترجیح آگ پر مکمل قابو پانا اور متاثرہ عمارت کو محفوظ قرار دینے سے پہلے خطرناک حصوں کا جائزہ لینا ہے۔




