اسلام آباد: پاکستان نے جموں و کشمیر کی حیثیت سے متعلق بھارت کے تازہ دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئی دہلی کے یکطرفہ نقشے، قانونی مؤقف یا خودمختاری کے دعوے اس خطے کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان سفیر سجاد حیدر خان نے 7 ستمبر کو جاری بیان میں بھارتی وزارت خارجہ کے مؤقف پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کا تنازع اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود قدیم حل طلب تنازعات میں شامل ہے۔

ترجمان کے مطابق پاکستان کا مؤقف ہے کہ جموں و کشمیر کے حتمی تصفیے کا تعین متعلقہ سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی آزادانہ رائے کے مطابق ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے سرکاری نقشوں میں جموں و کشمیر کو متنازع خطہ دکھایا جاتا ہے اور پاکستان اسی بین الاقوامی قانونی و سفارتی حیثیت کو بنیاد بناتا ہے۔ دفتر خارجہ نے بھارت کے ان دعووں کو مسترد کیا کہ اس کے سرکاری نقشے یا یکطرفہ فیصلے اس تنازع کی نوعیت پر حتمی اثر ڈال سکتے ہیں۔

یہ ردعمل اس پس منظر میں سامنے آیا جب بھارت نے ایک بین الاقوامی نقشہ جاتی بحث کے تناظر میں اپنے زیرانتظام جموں و کشمیر اور لداخ کو اپنے سرکاری نقشے کے مطابق دکھانے پر زور دیا۔ پاکستان نے اس مؤقف کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ کسی فریق کا یکطرفہ بیان یا داخلی انتظامی اقدام بین الاقوامی تنازع کے قانونی درجے کا متبادل نہیں ہو سکتا۔

دفتر خارجہ نے بین الاقوامی برادری سے بھی اپیل کی کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورت حال اور کشمیری عوام کے حق خودارادیت سے متعلق اپنی ذمہ داریوں پر توجہ دے۔ پاکستانی بیان میں بھارت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کرے جو تنازع کو مزید پیچیدہ بنائیں اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق سیاسی حل کی راہ ہموار کرے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر کئی دہائیوں سے بنیادی تنازع رہا ہے اور دونوں ممالک اس کی حیثیت کے بارے میں متضاد مؤقف رکھتے ہیں۔ موجودہ بیان کسی نئے مذاکراتی فریم ورک یا عملی سفارتی پیش رفت کا اعلان نہیں، بلکہ بھارتی دعووں کے جواب میں پاکستان کے سرکاری قانونی و سیاسی مؤقف کی دوبارہ توثیق ہے۔